Powered by TheAquaSoft


Search Results: nisar

زلزلے سے متاثرہ کئی علاقوں میں اب تک امدادی کام شروع نہیں ہوسکا، وزیر داخلہ کا اعتراف

Published: Sep 26, 2013 Filed under: Latest Beats

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور کئی مقامات پر اب تک امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہوسکیں۔   

قومی اسمبلی میں زلزلے سے متعلق اپنا پالیسی  بیان دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں زلزلے سے 500 کلومیٹررقبہ متاثر ہوا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے اب تک 348 افراد جاں بحق جبکہ 530 زخمی ہوئے ہیں، آ واران میں 305 افراد جاں بحق اور 440 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کیچ میں کیچ میں 43 اموات اور 73 زخمی ہیں تاہم صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ہے کہ اس قدرتی آفت سے جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ املاک کی تباہی سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ابھی نہیں لگایا جاسکتا۔

وفاقہ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ نیشنل ڈیزسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ متاثرہ علاقے میں موجود ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان بیرون ملک تھے تاہم وہ بھی ہنگامی طور پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جبکہ وہ خود کل متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ پاک فوج اور سویلین ادارے آواران اور کیچ میں پھیلے ہیں جو امدادی کاموں میں مصروف ہیں، اس وقت پاک فوج کے ایک ہزار جبکہ ایف سی کے 300 جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، وفاق نے اپنے تمام ہیلی کاپٹرز امدادی کاموں کے لئے مخصوص کردیئے ہیں جبکہ 4 خصوصی ٹیمیں بھی بھیجی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد اور لاشوں کی نشاندہی کرنے والے آلات سے لیس ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ فوج، ایف سی، این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی جانب سے ہزاروں خیمے، خوراک، پانی اور دیگر عام ضرورت کا سامان بھجوایا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا مسئلہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سڑکیں نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو  مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ ایک جگہ جب ہیلی کاپٹرز امدادی سامان لے کر گئے تو ان پرراکٹ فائرکئےگئے،ان ہی مشکلات کے باعث کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تک ہماری رسائی اب تک نہیں ہوسکی ہے


پشاور سانحہ، وفاقی حکومت کا ملک بھر میں 3 روزہ سوگ کا اعلان

Published: Sep 22, 2013 Filed under: Latest Beats

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پشاور سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں  3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں گورنر اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ وفاق اس مشکل وقت میں مسیحی برادی اور صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، حملہ آوور ملک اور اسلام دشمن ہیں، اس بڑے سانحے میں جس طرح مسیحی برادی نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سانحے کے بارے میں برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے اطلاع دے دی گئی تھی،  وزیراعظم نے ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچتے ہی مجھ سے رابطہ کیا اور  واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جب کہ مجھے فوری طور پر پشاور پہنچنے کی تلقین کی۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ امن کے راستے کا انتخاب تمام سیاسی جماعتوں، عسکری قیادت اور قوم کی مرضی کیا گیا تھا اور کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ بیان میں کوئی ایسی بات شامل نہیں کی گئی جس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا، لیکن اس کے باوجود دوسری جانب سے شرائط رکھی گئی اور ہمارے فوجیوں اور عام عوام کو نشانہ بنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، آج ہونے والے والے دھماکے میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 34 خواتین اور 7 بچے بھی شامل ہیں

انہوں نے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون اور زخمیوں کے علاج میں معاونت کی پیشکش کی اور کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے بھی انہیں ڈاکٹروں کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی تحریک انصاف، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس میں ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ چوہدری نثار نے ملک بھر میں مسیحی عبادگاہوں کی سیکورٹی کا فوری طور پر ازسر نو جائزہ لینے اور حملے میں متاثر ہونے والے چرچ کی وفاق کی جانب سے دوبارہ تعمیر کرانے کا بھی اعلان کیا۔ جنداللہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی گروپ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کو ہمیں مصدقہ نہیں سمجھنا چاہیے، ہم خود اس حوالے سے تحقیقات کریں گے اور اس حملے کے پیچھے موجود قوتوں کو بے نقاب کریں گے


یہ کیسے بہادر ہیں جو عورتوں اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں،چوہدری نثار

Published: Sep 22, 2013 Filed under: Latest Beats
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں پشاور میں آج ہونے والے سانحہ کے حوالے سے کچھ کہہ سکوں ،یہ ظلم عظیم ہے، یہ کیسے بہادر لوگ ہیں جو معصوم بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔گرجاگھرپر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، مسیحی برادری اورخیبرپختونخواکی حکومت سے اظہار یکجہتی کیلیے آیا ہوں۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار پشاور میں گرجا گھر میں خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک اور دیگر بھی موجود تھے،چوہدری نثار نے مزید کہا کہ یہ خلاف اسلام ہے، صدر مملکت نے یہاں آنے کی خواہش کی جس پر ہم نے انھیں سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے روک دیا ہے، صورتحال معمول پرآنے پر وہ تشریف لائیں گے،انھوں نے کہا کہ وزیراعظم غیر ملکی دورے کے بعد فورا ًپشاور آئیں گے،انھوں نے کہا کہ اب تک 78 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،جن میں 34 خواتین اور 7 بچوں شامل ہیں،یہ حملہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے کیا ہے، ملک بھر میں مسیحی برادری کی سیکیورٹی کا از سر نو جائزہ لیں گے،مسیحی برادری کو بھر پور سیکیورٹی دی جائیگی، انھوں نے کہاکہ ہم صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر یہ تمام پلان کرینگے۔ انھوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے تین روزہ سوگ کا بھی اعلان بھی کیا۔انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے۔اے پی سی کے فیصلوں پر تنقید بھی کی گئی،امن کا فیصلہ مشکل ترین فیصلہ تھا،سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے امن کاراستہ اپنانے کافیصلہ کیاہے

صرف 100 دن بعد - حسن نثار

Published: Sep 19, 2013 Filed under: Columns Hassan Nisar
    ڈار اور ڈالر کے ڈرون حملے





مہاجر ریپبلکن آرمی کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں، وفاقی وزیر داخلہ

Published: Sep 19, 2013 Filed under: Latest Beats
اپر دیر واقعے سے طالبان سے مذاکرات کے معاملات کو دھچکہ لگا تاہم کوئی ہمیں جنگ بندی کا مشورہ نہ دے، چوہدری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کا متحدہ قومی موومنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انٹیلی جنس رپورٹ مہاجر ری پبلکن آرمی کا تعلق کہیں اور بتاتی ہے۔

قومی اسمبلی میں کراچی آپریشن کے حوالے سے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے چوہدری نثٓار نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن وفاقی حکومت نے شروع کرایا اور اس کی نگرانی بھی وفاق ہی کررہا ہے، اس آپریشن پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار صوبے اور مرکز میں مختلف جماعتوں کی حکومت ہونے کے باوجود آپریشن ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران رینجرز نے 400 اور پولیس کے ایک ہزار آپریشن کئے جس میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ملزمان سمیت دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مہاجر ری پبلک آرمی کا تعلق ایم کیو ایم سے نہیں، خفیہ رپورٹ اس کا تعلق کہیں اور بتاتی ہیں اور یہ رپورٹ سابق حکومت کے دور کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے بچنے کے لئے کراچی کے 250 سے زائد ٹارگٹ کلرز بھاگ کر شمالی وزیرستان میں روپوش ہوگئے ہیں لیکن وہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اندرون ملک بھی ان کے لیے کوئی جگہ نہی

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات ہوں، کراچی کی صورتحال یا امن کی مجموعی صورتحال، حکومت کوئی لوڈو نہیں کھیل رہی بلکہ سنجیدگی سے تمام صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس مکمل تیاری کے بعد بلائی گئی جس میں ٹارگٹڈ آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا اب اس میں جو رکاوٹ بنے گا وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کے پہلے مرحلے کے کچھ اہداف باقی ہیں، دوسرے مرحلے میں آپریشن میں مزید شدت آئے گی جبکہ تیسرا مرحلہ سب سے اہم ہوگا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے فوج اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور ملکی مفاد کے مطابق لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپر دیر واقعے سے طالبان سے مذاکرات کے معاملات کو دھچکہ لگا تاہم کوئی ہمیں جنگ بندی کا مشورہ نہ دے۔



Page 1 of 1