Powered by TheAquaSoft


Search Results: kiyani

ڈرون حملوں کی حقیقت - ہارون الرشید

Published: Oct 26, 2013 Filed under: Haroon ur Rasheed
ڈرون حملوں کی کی اجازت کس نے دی اور حقیقت کیا ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


’میرا دور ختم ہو رہا ہے، اب دوسروں کی باری ہے‘

Published: Oct 7, 2013 Filed under: Latest Beats

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خواہشمند ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اپنی مدتِ ملازمت کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے

’میرا دور 29 نومبر 2013 کو ختم ہو رہا ہے اور اس دن میں ریٹائر ہو جاؤں گا۔‘

بیان کے مطابق اپنے مستقبل کے بارے میں جنرل کیانی نے کہا ہے کہ ادارے اور روایات کسی فرد سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی موجودہ ذمہ داریوں اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں میڈیا میں بحث جاری تھی اور ہر قسم کی افواہیں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور کئی رپورٹوں میں انہیں کچھ نئی ذمہ داریاں سونپنے کا بھی ذکر ہوا

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے

امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عسکری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جنرل کیانی چاہتے ہیں کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے رسمی عہدے کو بااختیار بنا کر انہیں سونپ دیا جائے۔

جریدے کے مطابق بااختیار بنانے سے جنرل کیانی کی مراد فوج میں تقرر و تبادلوں اور فوج کی نقل و حرکت پر کنٹرول دیا جانا تھا۔

خیال رہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو انتیس نومبر 2007 کو اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی جگہ پاکستان کی بری فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔گزشتہ حکومت کے دور میں چوبیس جولائی 2010 کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی مدتِ ملازمت میں تین برس کی توسیع کی تھی

پاکستان میں فوجی سربراہ کو ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع دینا کوئی نئی بات نہیں ہے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پہلے پانچ فوجی سربراہان عہدے کی معیاد سے زیادہ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے تاہم وہ پاکستانی فوج کے پہلے ایسے سربراہ ہیں جن کی مدتِ ملازمت میں کسی سویلین حکومت نے توسیع کی تھی۔


جنرل کیانی کو ریٹائرمنٹ کے بعد مزید طاقتور فوجی عہدہ ملنے کا امکان،غیرملکی خبرایجنسی

Published: Oct 4, 2013 Filed under: Latest Beats

پاکستان کی طاقتور ترین شخصیات میں شامل آرمی جنرل اشفاق پرویز کیانی کو موجودہ عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنائے جائے کا امکان ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی نے جنرل کیانی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف آرمی چیف کو ایک نیا اور زیادہ طاقتور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا سربراہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایک سنیئر انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا ہے کہ نواز شریف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر کمانڈ کو بحال اور اسے مزید طاقت دے کر “سینٹرل ڈیفنس باڈی” میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اس تبدیلی کے بعد جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا نیا سربراہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا نگران ہو گا اور وہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے فیصلہ بھی کرے گا جب کہ اسے کسی بھی اہم فوجی افسر کی تعیناتی، تبدیلی اور ترقی کے فیصلے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو وہی شکل دی جا رہی ہے جیسا اسے حقیقی معنوں میں ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی قریبی شخصیت نے بتایا کہ کہ کمیٹی کی سربراہی جنرل اشفاق پرویزکیانی کو دی جا سکتی ہے کیونکہ وہ پاکستان میں ہونے والی موجودہ عسکریت پسندی اور افغان جنگ پر ان کی گہری نظر رہی ہے اور وہ کافی ماہرانہ رائے رکھتے ہیں۔

خبر ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ اس خبر پر فوج کا موقف لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ نہیں ہوسکا جب کہ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی پیر کو ریٹائرمنٹ اور باضابطہ اعلان تک اس حوالے سے کوئی موقف نہیں دے سکتے


اب جو کچھ کرنا ہے وہ شیر ہی کرے گا - نصرت جاوید

Published: Oct 4, 2013 Filed under: Columns Nusrat Javeed
ہمارے حکمرانوں کی مثال ہارے ھوۓ اس لشکر کی ھے جس کے سامنے جنگل میں اچانک شیر آجاۓ، اب جو کچھ کرنا ہے وہ شیر ہی کرے گا


Page 1 of 1