Powered by TheAquaSoft


Search Results: employees

پولیو مہم کے مرکز کے قریب دھماکہ، 6 ہلاک

Published: Oct 7, 2013 Filed under: Latest Beats

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں ایک دھماکے میں چار اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ دھماکہ پیر کی صبح بڈھ بیر کے علاقے سلیمان خیل میں ایک بنیادی مرکزِ صحت کے باہر ہوا

پولیس کا کہنا ہے کہ بم دفتر کے سامنے نصب کیا گیا تھا اور اس کے پھٹنے سے پولیس کا ایک اہلکار، تین پولیس رضاکار اور امن کمیٹی کے دو ارکان مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا مرکزِ صحت میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ارکان جمع تھے اور بظاہر اس کا ہدف بھی وہی تھے۔

سلیمان خیل کا علاقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قریب واقع ہے اور ماضی میں بھی صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پولیو کی ٹیموں پر حملے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رواں برس مئی میں قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں ایک لیویز اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ اس سے قبل اپریل میں مردان میں پولیو مہم کے کارکنان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

گذشتہ سال بھی پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے بعد ہی پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا تھا اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا تھا۔

پاکستان میں گذشتہ سال 58 بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 27 کا تعلق خیبر پختونخوا جب کہ 20 کا تعلق فاٹا سے تھا۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔


امریکا میں بجٹ پر عدم اتفاق کے باعث شٹ ڈاؤن، لاکھوں سرکاری ملازم بیروزگار ہوگئے

Published: Oct 1, 2013 Filed under: Latest Beats
صدر براک اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات کی وجہ سے سینٹ نے ایوان نمائندگان کے منظور کردہ بجٹ بل اور ایمرجنسی فنڈنگ بل کو مسترد کر دیا

امریکا میں نئے مالی سال کے بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث وائٹ ہاؤس نے سرکاری محکموں کو شٹ ڈاوٴن کے احکامات جاری کر دیئے جس کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین بے روزگارہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نےمالی سال کے اختتام پرہیلتھ کیئربل منظورنہ ہونے پر اقتصادی شٹ ڈاؤن کا اعلان کر دیا جس کے تحت امریکا کے تمام سرکاری محکموں کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔  شٹ ڈاؤن سے 8 لاکھ وفاقی ملازمین ملازمت سے فارغ اور تنخواہ سے محروم ہو جائیں گے جب کہ لاکھوں کنٹریکٹ ملازمین کو بھی ان کی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑگیا۔

صدر براک اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات برقرار رہنے کی وجہ سے سینٹ نے ایوان نمائندگان کے منظور کردہ بجٹ بل اور ایمرجنسی فنڈنگ بل کو مسترد کر دیا۔ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ویزا اور پاسپورٹ کی درخواستوں پر عمل درآمد مشکل جب کہ  سمتھ سونین انسٹیٹیوٹس، عجائب گھر، چڑیا گھر اور بہت سے نیشنل پارک بند ہو جائیں گے جب کہ اہم سمجھے جانے والی سروسز جس میں ایئر ٹریفک کنٹرول اور کھانے کی ضروری اشیاء کا معائنہ کرنے والے ادارے شامل ہیں میں کام جاری رہے گا۔ وزارت دفاع نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ ملٹری کے باوردی ملازمین معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے جبکہ سویلین عملے سے گھر رہنے کو کہا جائے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر اوباما نے  میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا میں کاروبار حکومت بند ہوا تو کئی غیر اہم سرکاری ادارے بند ہوجائیں گے اور لاکھوں سرکاری ملازمین کوگھر بھیج دیا جائے گا، جبکہ 10 لاکھ سے زائد ملازمین تنخواہ کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شٹ ڈاوٴن کے باعث امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اورعام لوگوں کی زندگی شدید متاثر ہوگی تاہم اس سے فوجیوں کی ڈیوٹی متاثر نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا میں سرکاری محکموں کو بند کرنے کے احکامات پہلی بار نہیں دیئے گئے، 17 سال قبل 1996 میں صدر بل کلنٹن کے دور حکومت میں بھی سیاست دانوں کے درمیان اختلافات کے باعث سرکاری محکموں کے شٹ ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا جس کے باعث غیر اہم سرکاری اداروں کے لاکھوں ملازمین کو بغیر تنخواہوں کے کام پڑا تھا


امریکہ : لاکھوں وفاقی ملازمین کی نوکریاں ختم ہونے میں تیس منٹ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے

Published: Oct 1, 2013 Filed under: Latest Beats

امریکی صدر براک اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات برقرار ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں وفاقی ملازمین کی نوکریاں ختم ہونے میں تیس منٹ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ ممکنہ شٹ ڈاؤن سے ’یقیناً‘ بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں لوگ فوری طور پر معاشی حوالے سے بہت زیادہ متاثر ہوں گے اور امریکی معاشی ترقی بھی متاثر ہو گی

صدر اوباما نے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے بارے میں کہا کہ ’کوئی یہ یقینی طور پر کہہ سکتا ہے کہ یہی بحث چند ماہ میں دوبارہ نہیں کی جائے گی؟‘

امریکی مالی سال تیس ستمبر کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات بارہ بجے (گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چار بجے) ختم ہو جائےگا اور اس سے قبل حکومت کے لیے اخراجات کے بل سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق رائے کرنا ضروری ہے۔

اس وقت تک اگر حکومت اور حزب اختلاف کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے تو غیر اہم سرکاری سروسز کو بند کرنا پڑے گا جس سے سات لاکھ سے زیادہ افراد کی نوکریوں کو خطرہ ہوگا یا پھر وہ بغیر تنخواہ کے کام پر مجبور ہوں گے۔

واشنگٹن میں کیپیٹل ہل پر پیر کو دن بھر اور پھر رات میں امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ہلچل دیکھنے میں آئی جب حکومتی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ نے ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں منظور کیے جانے والے بجٹ بل اور ایمرجنسی فنڈنگ بل کو مسترد کر دیا۔

ان بلوں میں اوباما انتظامیہ کے ہیلتھ کیئر پلان کو مزید محدود کرنے کی تجویز تھی۔

اوباما کیئر کے نام سے معروف قانون حکومت اور حزبِ اختلاف میں وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ ریپبلکن جماعت اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی اخراجات کی منظوری صرف اسی صورت میں دیں گے جب اس منصوبے کو ختم کیا جائے یا اس کے لیے بجٹ میں رقم مختص نہ کی جائے۔

خیال رہے کہ 2010 میں منظور ہونے والے اس قانون کے بیشتر نکات کی توثیق ملک کی سپریم کورٹ کر چکی ہے اور وہ منگل سے ہر صورت میں نافذ العمل ہوں گے۔

پیر کی شام سینیٹ نے چھیالیس کے مقابلے میں چوّن ووٹوں سے جو ایمرجنسی فنڈنگ بل مسترد کیا اس میں ریپبلکن پارٹی نے حکومتی امور چلانے کے لیے عارضی فنڈنگ کی تجویز دی تھی تاہم اس میں ہیلتھ کیئر کے قانون کے نفاذ میں ایک برس کی تاخیر اور طبی آلات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی بھی بات کی گئی تھی۔

امریکی پارلیمان میں اس ڈیڈ لاک کے تناظر میں سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے قائد ڈیموکریٹ سینیٹر ہیری ریڈ نے کہا ہے کہ ’یہ سادہ اور عام فہم بات ہے کہ یہ ری پبلکن حکومت کا شٹ ڈاؤن ہوگا۔‘

تاہم ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر کا کہنا تھا کہ ’نہ امریکی عوام اور نہ ہی میں اس شٹ ڈاؤن کے حق میں ہیں لیکن ہیلتھ کیئر کے قانون کے اثرات تباہ کن ہیں اور اس سلسلے میں کچھ کیا جانا ضروری ہے۔‘

یکم اکتوبر کو شٹ ڈاؤن کی صورت میں اگر سرکاری سروسز بند ہوتی ہیں تو اکیس لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ایک تہائی کو کام روکنا ہوگا اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس مسئلے کے حل ہونے کی صورت میں انہیں اس عرصے کی تنخواہیں ملیں گی

سرکاری سروسز کی بندش کی صورت میں نہ صرف پنشن کی فراہمی میں تاخیر ہوگی بلکہ ویزے اور پاسپورٹ کی درخواستوں پر مقررہ وقت میں عملدرآمد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اہم سمجھی جانے والی سروسز جیسا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول اور کھانے کی ضروری اشیاء کا معائنہ کرنے والے اداروں میں کام جاری رہےگا تاہم سمتھ سونین انسٹیٹیوٹس، عجائب گھر، چڑیا گھر اور بہت سے نیشنل پارک بند ہو جائیں گے۔

امریکی حکومت کے اہم محکموں میں سے محکمۂ خارجہ کچھ عرصے تک مکمل استعداد پر کام کرتا رہے گا جبکہ محکمۂ دفاع کے فوجی آپریشنز بھی جاری رہیں گے۔ محکمۂ دفاع نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ فوج کے باوردی ملازمین معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے جبکہ سویلین عملے سے گھر رہنے کو کہا جائے گا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی اور محکمۂ انصاف بھی نہ ہونے کے برابر متاثر ہوگا۔

اس کے علاوہ محکمۂ تعلیم سرکاری سکولوں کی فنڈنگ جاری رکھے گا لیکن عملے کی تعداد میں کمی ہوگی۔ تاہم جہاں محکمۂ توانائی کے 12700 ملازمین گھر بھیج دیے جائیں گے وہیں محکمۂ صحت اور عوامی خدمات کے نصف سے زائد عملے کو جانا ہوگا۔

امریکہ میں بازارِ حصص میں بھی ’شٹ ڈاؤن‘ کے خدشات کی وجہ سے مندی دیکھی گئی ہے تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں ملک کی معیشت کو قابلِ ذکر نقصان تبھی پہنچے گا جب ممکنہ شٹ ڈاؤن چند دن سے زیادہ جاری رہتا ہے

http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/131001_us_shutdown_senate_rh.shtml


پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکا، 17 افراد جاں بحق، 35 سے زائد زخمی

Published: Sep 27, 2013 Filed under: Latest Beats

سول سیکریٹریٹ کے ملازمین کی بس کواس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ملازمین کو پشاور سے چارسدہ لے کر جارہی تھی

چارسدہ روڈ پر سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور خواتین سمیت 35 سے زائد زخمی ہوگئے

ایکسپریس نیوز کے مطابق دھماکا گل بیلہ میں تھانہ کہوزئی کی حدود میں سرکاری ملازمین کی بس میں ہوا، بس میں 40 سے 50 سرکاری ملازمین سوار تھے جو پشاور سے چارسدہ جارہے تھے، دھماکے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے، امدادی ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر ابتدائی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور چارسدہ اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد بس کے پچھلے حصے میں رکھا گیا تھا جس کے پھٹنے سے بس مکمل طور پر تباہ ہوگئی تاہم دھماکے میں کس نوعیت کا اور کتنا دھماکا خیز مواد استعمال ہوا اس سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت خودکش نہیں لگتی تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد ہی اس سے متعلق کچھ بھی حتمی طور کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کا نشانہ بننے والی بس میں سول  سیکریٹریٹ کے ملازمین سوار تھے


Page 1 of 1