Powered by TheAquaSoft


Search Results: church

Imran Khan's life at risk - Security Agencies

Published: Nov 22, 2013 Filed under: Latest Beats
عمران خان کی جان کو خطرہ،غیر ملکی ایجنسیاں نشانہ بنا سکتی ہیں - سیکیورٹی ادارے


قانون سازی کرکے دہشتگردوں کی ضمانت نہیں ہونے دیں گے، وزیر اعظم نواز شریف

Published: Oct 10, 2013 Filed under: Latest Beats

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لئے اسپیشل فورس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے جلد ٹرائل کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کے ذریعے اب مجرموں کی ضمانت نہیں ہونے دیں گے۔

پشاور میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے چرچ دھماکے پر مسیحی برادری سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات قابل مذمت ہیں اور حکومت ان دہشت گردوں کو کیفردار تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ہتھیار دیں دے، حکومت ایسے قوانین بنا رہی ہے جن سے دہشت گرد اپنے کیفر کردار تک پہنچیں گے جبکہ دہشت گردوں کے جلد ٹرائل کے لئے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتیازی سلوک کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں ہے، ہمیں عیسائی برادری بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح ہی عزیز ہے اور چرچ پر حملہ مسیحی برادری نہیں بلکہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امن کی بحالی کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھائے گی، پولیس کو مضبوط بنایا جائے گا اور انسداد دہشت گردی کے لیے اسپیشل فورس بھی تشکیل دی جائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اور امید ہے کہ آگے بھی اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اقدامات اٹھانے کے ساتھ یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ مجرموں کو عدالت سے بھی سزا ملے اور انہیں ایک صوبے سے دوسرے صوبے کی جیل بھی منتقل کیا جاسکے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں اور پشاور چرچ دھماکے کے متاثرین کے لئے صوبائی حکومت ٹرسٹ بنا رہی ہے جس میں 10 کروڑ روپے دیئے جائیں گے جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت مسیحی برادی کے لئے جو چرچ بنائے گی اس میں وفاقی حکومت بھی 10 کروڑ روپے دے گی جن سے متاثرہ خاندانوں کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کے علاوہ وفاقی حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ روپے بھی دے گی۔

اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں صوبے میں امن امن وامان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، خارجہ امور سے سیکرٹری سرتاج عزیز، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور دیگر وفاقی و صوبائی وزرا بھی شریک تھ


خون کے دھبے - جاوید چوھدری

Published: Sep 26, 2013 Filed under: Columns Javed chaudhry
میرے پاوٗں سے ٹکرانے والا وہ کویُ ربڑکا ٹکڑا نھیں بلکہ ایک معصوم بچے کے کی انگلی تھی جو بم دھماکے میں کٹ گیُ تھی


حکومت سنجیدہ ہے تو طالبان سے مذاکرات کیلئے آفس بنائے

Published: Sep 26, 2013 Filed under: Latest Beats
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت سنجیدہ ہے تو طالبان سے مذاکرات کیلئے جلد کوئی آفس بنائے اور کوئی رابطہ کار بھی مقرر کرئے۔ انہوں نے کہا 9 سال پہلے ایک گروپ تھا آج 35 بن چکے ہیں ۔طالبان بھی مذاکرات کیلئے اپنا کوئی آفس کھولیں ۔ عمران خان نے کہا لوگوں نے تحریک انصاف کو امن کیلئے ووٹ دیئے، آل پارٹیز کانفرنس میں سب نے یہی فیصلہ کیا کہ امن ہو ۔ انہوں نے کہا سانحہ پشاور پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہئے ، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے زخمیوں کو خون کے عطیات دیئے 

ہمیں لوگوں نے امن لانے کے لئے ووٹ دیا ہے جنگ لڑنے کے لئے نہیں، عمران خان

Published: Sep 25, 2013 Filed under: Latest Beats
لوگوں کے خون پر سیاست نہ کی جائے۔ ہم سب کا مقصد امن کا قیام ہے۔، عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں لوگوں نے ووٹ دیا ہے امن لانے کے لئے جنگ لڑنے کے لئے نہیں۔ اے پی سی میں امن کا فیصلہ کیا گیا تو اس کا موقع بھی ملنا چاہئے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 170 واقعات ہوئے، گزشتہ  9 سال کے دوران 50 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ 9 برس پہلے ملک کے حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں۔ عوام نے ہمیں امن کے لئے مینڈیٹ دیا ہے جنگ لڑنے کے لئے نہیں، ایسی صورت حال میں وہ یہ کہیں گے کہ لوگوں کے خون پر سیاست نہ کی جائے۔ ہم سب کا مقصد امن کا قیام ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چوتھی اے پی سی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا فیصلہ کیا، اگر اے پی سی نے امن کا فیصلہ کیا تو اس کا موقع بھی ملنا چاہئے۔ اگر ملٹری آپریشن کامیاب ہوجائے تو فوج کارروائی کرتی رہے، انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکا نے قطر میں طالبان کا دفتر کھلوایا، حکومت  بھی اسی طرز کے اقدامات کرے تاکہ مذاکراتی عمل واضح ہوسکے اور پھر بھی دہشتگردی کا واقعہ ہو تو اس کے ذمہ داروں کے بارے میں پوچھا جاسکے


Page 1 of 3