Powered by TheAquaSoft


Search Results: article

"Murdo Kay Liye Mout Ki Dua" column by Hassan Nisar - 09 October 2017

Published: Oct 9, 2017 Filed under: Hassan Nisar

مُردوں کے لئے موت کی دعا


مُردوں کے لئے موت کی دعاحسن نثارجس معاشرہ میں اقتصادیات لوٹ مار کی لپیٹ میں آ جائے وہاں اخلاقیات کا تار تار ہو جانا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ جہاں اقتصادیات میں ڈسپلن تباہ و برباد ہو جائے وہاں اخلاقیات میں بھی ڈسپلن کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ یہی کچھ ہمارے ہاں ہوا جس کا 90فیصد کریڈٹ اس ’’کلچر‘‘ کو جاتا ہے جو سیاست میں ’’نووارد‘‘ نواز شریف نے متعارف کرایا اور پھر وہ سریع الاثر زہر کی طرح پورے معاشرے میں پھیلتا چلا گیا۔ تھوڑی سی سوچ بچار سے واضح ہو جائے گا کہ نواز شریف کی سیاست میں تشریف آوری سے پہلے کی سیاست کے خدوخال کیا تھے؟ بعد میں بتدریج کیسے تبدیل ہوئے اور آج یہ حالت ہے کہ اجتماعی بدن کا ایک ایک مسام ناسور میں تبدیل ہو چکا۔ کبھی کوئی اصلاح کا بیڑہ اٹھائے بھی تو اسے یہی سمجھ نہ آئے کہ شروع کہا ںسے کرے۔صرف ایک دن کی صرف چند خبروں کو آپس میں مکس کر کے دیکھیں، کیسی مکروہ ترین صورتحال سامنے آتی ہے۔ ذرا غور فرمائیں ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر جعلی یونیورسٹیوں اور کیمپسز کی تعداد 155تک جا پہنچنے کا ہوشربا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیل کے مطابق پنجاب شریف 102، سندھ سائیں میں 36، پختونخوا عرف نیا پاکستان میں 11، اسلام آباد میں 3اور کشمیر میں بھی 3جعلی یونیورسٹیاں ہیں۔چشم بددور جعلی کلیموں اور جعلی ذاتوں سے شروع ہو کر جعلی ڈگریوں، جعلی دوائیوں سے ہوتے ہوئے ہم جعلی یونیورسٹیوں تک آ پہنچے اور یہ ’’ہم‘‘ کون ہیں؟ جن کا آغاز اقرا (پڑھ) سے ہوا اور ہمیں بتایا گیا کہ علمتمہاری کھوئی ہوئی میراث ہے۔ ہم نے میراث کو منڈی کا حال بنا کر اس کی لوٹ سیل لگا دی اور ایسا ایسا سیاسی جوکر پیدا کیا جو کہتا تھا ’’ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، جعلی ہو یا اصلی‘‘ یعنی قوم تو قوم ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، عزت تو عزت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، غیرت تو غیرت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی۔معیشت تو معیشت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، وزیراعظم تو وزیراعظم ہوتا ہے صادق ہو یا جھوٹا، امین ہو یا خائن علی ہذالقیاس۔ دوسری طرف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے انٹری ٹیسٹ لیک ہونے پر وائس چانسلر ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جنید سرفرار کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ مذموم، تباہ کن ’’کاروبار‘‘ کب سے جاری تھا، نسلیں غیر محفوظ کر کے کتنا مال بنایا گیا؟ فی پیپر کتنا چارج کیا جاتا تھا؟ کون کون شامل تھا؟ سب چھوڑیں اور صرف اتنا سوچیں کہ کتنا گر چکے ہیں اور منڈی میں کتنا جعلی ڈاکٹر موجود ہے۔اب ایک اور رخ سے اپنا ’’اجتماعی رخ مبارک‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ آپ کو 2015میں شاہین ایئر لائنز کا حادثہ تو یاد ہو گا۔ اس کی انکوائری رپورٹ آ گئی ہے جس کے مطابق اقبال کا جو ’’شاہین‘‘ یعنی پائلٹ جہاز اڑا رہا تھا، وہ نشے میں دھت تھا۔ اسی حالت میں فلائٹ کو کراچی سے لاہور لایا اور مقررہ حد رفتار سے تجاوز کرنے کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔ پائلٹ کی میٹرک کی سند بھی جعلی نکلی ہے۔ لینڈنگ کے لئے رن وے کا راستہ بھی غلط اختیار کیا گیا۔ پرواز سے قبل پائلٹ اور عملے کا الکوحل ٹیسٹ بھی نہیں کیا گیا تھا۔رہی سہی کسر پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2017کے مایوس کن شرمناک نتائج کااعلان کر کے پوری کر دی جن کے مطابق کامیابی کی شرح 3.32 فیصد رہی۔ امتحان میں 9301امیدواروں نے حصہ لیا، صرف 312کامیاب ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ ان 312کو مل کر بھی مایوسی ہی ہو گی۔ میں شاید پہلے بھی کبھی یہ لکھ چکا ہوں کہ آپ کبھی پنجاب یونیورسٹی ’’نیو کیمپس‘‘ جائیں تو یوں محسوس ہو گا آپ کسی میلہ مویشیاں میں آ گئے ہیں۔ عجیب سوئے سوئے، بے ترتیب میلے میلے ستھنیں، جوگرز، چپلیں پہنے اک بے سمت ہجوم سا دیکھ کر رونا آتا ہے۔ کسی طرف سے نہیں لگتا کہ یہ کسی یونیورسٹی کا منظر ہے۔اور کیا آپ جانتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟اس لئے کہ وزیراعظم اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے نا اہل، غیر صادق، غیر امین قرار دیئے جانے کے باوجود پوچھتا پھر رہا ہے۔ ’’مجھے کیوں نکالا؟ وزیر خزانہ بددیانتی، ہیرا پھیری کے سنگین الزامات پر پیشیاں بھگت رہا ہے لیکن وزارت سے چپکا ہوا ہے۔مارشل لائوں اور ڈکٹیٹروں کی پیداوار بلکہ ان کے ’’پوتے‘‘ اور ’’نواسے‘‘ جمہوریت کے چمپئن بنے ہوئے ہیں اور بے حیائی سے وفاداریاں تبدیل کرنے والے قوم کو سیاسیات، جمہوریت اور اخلاقیات کے لیکچر دے رہے ہیں۔تین بار وزیراعظم رہ چکے شخص کی سوئی سقوط ڈھاکہ پر اٹکی ہوئی ہے اور وہ اپنے ہی وزراء کو کنٹرول میں رکھنے، بلیک میل کرنے کے لئے ان کے خلاف فائلیں تیار کروا رہا ہے اور شاید اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ریاض پیرزادہ سمیت 4وزراء اور حکومتی ارکان اپنی ہی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی سے واک آئوٹ کر گئے اور ایک اخباری اطلاع کے مطابق نواز شریف نے اپنے 3معتمد درباریوں کو یہ ٹاسک دے دیا ہے کہ حکومت کے باغیوں کو منا کر لائو یا ان واک آئوٹ کرنے والوں کے انتخابی حلقوں میں ان کے متبادل تلاش کر کے ان کی ہر ممکن ناممکن مدد کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں کو پولیس اور بیورو کریسی کے ذریعہ تنگ کرو۔عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ ٹمپرنگ کی غلیظ ناپاک ناکام سازش کے بعد اس حکومت کی اصل کمائی یہ ہے کہ بزرگ، سینئر ترین رکن اسمبلی اور سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے اس اسمبلی کے لئے موت کی دعا کی ہے حالانکہ مرتے تو وہ ہیں جو زندہ ہوں۔



hassan nisar, hassan nisar column, hassan nisar column justice in Pakistan, hassan nisar urdu column, hassan nisar urdu article, article, column, jang column, jang column archive, Murdo Kay Liye Mout Ki Dua,Pakistan Management system,system,source

"Aakhari Ziyarat" column by Javed Chaudhry - 6th October 2017

Published: Oct 6, 2017 Filed under: Javed chaudhry


Javed Chaudhry, Javed Chaudhry column,news,article,Pakistan,javed chaudhry column Aakhari Zayarat,Aakhari Zayarat,Pakistani Administration,administration issue in Pakistan,Police,Security,India,Music

"Tit For Tat" column by Javed Chaudhry - 05 October 2017

Published: Oct 6, 2017 Filed under: Javed chaudhry

Javed Chaudhry, Javed Chaudhry column,news,article,Pakistan,javed chaudhry column Tit For Tat,Tit For Tat,Pakistani Administration,administration issue in Pakistan,Police,Security


"Qillat-e-Zar Aur Kasrat-e-Zar" column by Hassan Nisar - 03 October 2017

Published: Oct 3, 2017 Filed under: Hassan Nisar

روہنگیا مسلمانوں پر تو غیر مسلم ظلم ڈھارہے ہیں لیکن پاکستانی مسلمانوں اور اقلیتوں پر ظلم ڈھانے والے کون ہیں؟ پاکستانیوں کو مسلسل دہکتے ہوئے کوئلوں پر گھسیٹا جارہا ہے۔ ابھی چند روز پہلے بجلی تین روپے90پیسے فی یونٹ کے حساب سے مہنگی کی گئی اور اب پٹرول، ڈیزل2اور مٹی کا تیل 4روپے مہنگا ہوجانے پر مجھے جرمن نازیوں کی بدنام زمانہ گسٹاپو یاد آئی جس نے ٹارچر کے حیرت انگیز طریقے متعارف کرائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ پٹ سن جیسی کسی شے کی رسی اپنے ٹارگٹ یا شکار کے جسم پر جگہ جگہ مختصر وقفوں کے بعد ڈھیلے ڈھالے انداز میں یوں باندھ دیتے جیسے ہندو لڑکیاں ’’راکھی‘‘ باندھتی ہیں۔ بازئوں، ٹانگوں، چھاتی پر رنگز کی شکل میں یہ جڑی بوٹی باندھے، لپیٹنے کے بعد ان پر پانی کی پھوار ڈالی جاتی تو کچھ دیر بعد رسی کے وہ ڈھیلے سے رنگز آہستہ آہستہ سکڑنے لگتے۔ پہلے انسانی کھال کو کاٹتے ہوئے یہ رسیاں گوشت میں دھنستی جاتیں اور سلوموشن میں گوشت سے گزر کر ہڈیوں کو سلائس کرتے ہوئے، ہڈیوں کے اندر گودے میں سے ہوتے ہوئے ربربینڈ کی طرح آپس میں مل جاتیں، جتنی جگہ یہ رسی باندھی گئی ہوتی، انسانی جسم اتنی’’گنڈیریوں‘‘ میں ہی تقسیم ہوجاتا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی نوبت کم ہی آتی کیونکہ بڑے سے بڑا پھنے خان بھی پہلے مرحلہ پر ہی ناکردہ جرائم بھی تسلیم کرلیتا تھا۔پاکستان کے حکمران بھی گزشتہ کئی عشروں سے پاکستانیوںکے ساتھ یہی کچھ کررہے ہیں۔ معاشرہ کی بنیادی ساخت، ہیئت اور معاشی بنت ہی کچھ ایسی کردی گئی ہے کہ پورا معاشرہ اک بہت بڑے ٹارچر سیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جہاں تمول اور فراوانی ہے، ان کے دیدوں سے پانی ڈھل چکا، کھاتے پیتے لوگ ہوائی دیدہ ہوچکے، ان کے دلوں سے حیا اور ہمدردی ہجرت کرچکی۔ ویسے بھی ہماری کھالیں کافی سخت اور موٹی ہیں۔ عام لوگ تو کیا دانشور ٹائپ لوگ بھی ترقی یافتہ ملک گھومنے جاتے ہیں تو سیٹیاں مارتے جاتے، شاپنگ بیگز اٹھائے واپس آتے ہیں۔ آٹے میں نمک برابر بھی ایسے نہیں جو وہاں جاکر کڑھتے، جلتے، مرتے ہوں کہ یہ قوم کہاں پہنچ گئی، ہم کن گٹروں میں پھنسے ہیں، ان کی ترجیحات کیا اور ہماری فخریہ پیشکش کیا؟ ابھی چند روز قبل’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں عائشہ بخش نے پروٹوکول اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالہ سے سوال کیا تو میرا فوکس یہ نہیں تھا کہ ملکی خزانے پر اس کا کتنا بوجھ پڑتا ہے، میرا سارا زور اس پر تھا کہ اس بدمعاشی کے عوام کی اجتماعی نفسیات پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اجتماعی نفسیات ہی مسخ ہوجاتی ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ ترجیحات ہی حیات ہے اور یہاں جن کی اپنی زندگیاں، رہن سہن خوشگوار اور ہموار ہیں، انہیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ بازار میںکوئی چیز کس بھائو بک رہی ہے۔ رہ گئے حکمران طبقات تو ان سے زیادہ ظالم، ضدی، بےضمیر کوئی ہونہیں سکتا کہ ان میں سے بیشتر کی تاریخ اور ڈی این اے ہی ایسا ہے۔یوں تو غربت، افلاس، محرومی، عسرت کے ڈائریکٹ اور دور سے دکھائی دینے والے اثرات ہی کم بھیانک نہیں لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹس، آفٹر ایفیکٹس، فوری اور مستقل یعنی نسل در نسل چلنے والے اثرات بھی دلخراش ہی نہیں پوری قوم کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔ملکی وسائل کی بےرحمانہ، غیر منصفانہ، ناجائز اور غلط تقسیم انسانی معاشروں کو کھوکھلاکردیتی ہے جن کے پاس بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی کچھ نہیں وہ بتدریج انسانیت، خودداری، عزت نفس کے مدارج سے نیچے گرتے پھسلتے چلے جاتے ہیں۔ خوشامد، جی حضوری، چاپلوسی، کام چوری، بہانے بازی، جھوٹ، گندگی، ڈھٹائی وغیرہ ان کی ’’خصوصیات‘‘ قرار پاتی ہیں اور دوسری طرف جن کے پاس ڈھیروں دولت جمع ہوجائے وہ بھی انسانیت سے اس طرح گر جاتے ہیں کہ غرور، تکبر، سستی، کاہلی، سازش، عیاشی وغیرہ ان کی پہچان بن جاتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ قلت زر ہی نہیں کثرت زر بھی اتنی ہی تباہ کن ہے۔ٹالسٹائی نےدلچسپ کہا کہ اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبا پھیلے جس سے دنیا بھر کے امیر، کبیر، راجے، مہاراجے، رائے ،رئیس، جاگیردار، سیٹھ ، ساہوکار یعنی طاقتور خوشحال لوگ سب کے سب مرجائیں تو نظام عالم میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر اسی وبا کے نتیجہ میں دنیا بھر کے کسان، مزدور، ہنر مند، ڈرائیور، خانسامے، بیرے، چوکیدار وغیرہ موت کے گھاٹ اتر جائیں تو دنیا دوزخ بن جائے۔یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں ’’مساوات‘‘ کی حقیقت سے واقف اور یہ جانتا ہوں کہ انسان نہ برابر ہوتے ہیں نہ ہوسکتے ہیں کیونکہ خود خالق نے انہیں ایک جیسا نہیں بنایا۔’’مساوات‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک انسان کی بنیادی ضروریات کا تعلق ہے، وہاں ہم سب برابر ہیں کیونکہ سب کو سانس کے لئے آکسیجن ، پیاس کے لئے پانی، بھوک کے لئے کھانا، سرپر چھت، بچوں کے لئے تعلیم، بیماریوں کے لئے علاج، ظلم کی صورت میں انصاف کی یکساں ضرورت ہے،لیکن میں کن بھینسوں کے آگے بین بجارہا ہوں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہمارے ہاں کی فی کس آمدنی میں ایسی چومکھی مہنگائی تو تاتاریوں اور نازیوں کے مظالم سے بھی بدتر ہے۔صرف عالی ظرف اور عالی دماغ حکمران ہی جان سکتے ہیں کہ قلت زر اور کثرت زر کے درمیان توازن قائم رکھنا کیوں ضروری ہے اور رکھا کیسے جاسکتا ہے جبکہ یہاں تو وہ صوفی شاعر یاد آتا ہے جس نے کہا تھا؎’’نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا‘‘

hassan nisar, hassan nisar column, hassan nisar column justice in Pakistan, hassan nisar urdu column, hassan nisar urdu article, article, column, jang column, jang column archive, Qillat-e-Zar Aur Kasrat-e-Zar,Source

"Jamaat-e-Islami Ki Siyasi Nakami" column by Saleem Safi - 03 October 2017

Published: Oct 3, 2017 Filed under: Saleem Safi

 ملکی سیاست کرپشن کے ایشو کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ نہ نوازشریف اور زرداری کی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور نہ عمران خان طرح وہ سینکڑوں کنال رقبے پر محیط گھر میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سراج الحق نے نتھیاگلی کے وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک دن بھی نہیں گزارا لیکن عمران خان صاحب نے اسے جتنا استعمال کیا، اتنا شاید گزشتہ بیس سالوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔ مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی طرح جماعت اسلامی خاندانی جماعت ہے اورنہ پی ٹی آئی کی طرح شخصی۔ اس کے اندر جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کراچی کے اردو بولنے والے درویش سید منور حسن امیر منتخب ہوجاتے ہیں تو کبھی افغان سرحد پر مسکینی گائوں کے دیہات میں ایک مولوی کے گھر جنم لینے والے پختون سراج الحق قیادت سنبھال لیتے ہیں۔سیاسی قائدین کی صف میں اگر کوئی رہنما سب سے زیادہ محنت کررہے ہیںتو وہ بلاشبہ سراج الحق ہی ہیں۔ صبح کراچی میں، دوپہر لاہور میں تو شام کو کہیں ملاکنڈ میں نظرآتے ہیں۔ تاہم ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں کمی آرہی ہے بلکہ وہ دن بدن قومی سیاست سے غیرمتعلق ہوتی جارہی ہے۔ وہ کراچی جہاں کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتاتھااور مئیر تک جماعت اسلامی سے منتخب ہوا کرتا تھا، وہاں آج انتخابی میدان میں جماعت اسلامی مقابلے کے بھی قابل نہیں رہی۔ لاہور جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سے جماعت اسلامی کے امیدوار منتخب نہ بھی ہوتے تو دوسرے نمبر پر ضرور آتے لیکن وہاں بدحالی کا یہ عالم ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں جماعت کا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکا۔بلوچستان میں توجماعت اسلامی پہلے عوامی سطح پرمقبول جماعت تھی اور نہ اب بن سکتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے تو وہاں پر بھی عملاً جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اب تو یہ لطیفہ نما فقرہ زبان زدعام ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی ہے جو صرف ملاکنڈ ڈویژن میں چل سکتی ہے۔چنانچہ جماعت اسلامی کی قیادت خواب تو کچھ اور دیکھ اور دکھابھی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صور تحال برقرار رہی تو اگلے انتخابات میںعوامی میدان میں جماعت اسلامی مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔
 
جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کررہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجائو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنالیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اورنہ مکمل سیاسی۔
 
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جارہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیرمحسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کرلیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیرمعمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوگیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی۔
 
تیسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کرلیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروںمیں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان بیٹھے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکارلیتے ہیں۔
 
قاضی حسین احمد مرحوم کے دور میں جماعت اسلامی کی سوچ کو جس طرح بین الاقوامی بنا دیا گیا، اس کی وجہ سے بھی جماعت اسلامی کو شدید نقصان پہنچا۔ جماعت اسلامی نے افغانستان اور کشمیر کو اپنی سیاست کا محور بنالیا تھا اور وہاں بری طرح مار پڑگئی لیکن جماعت اسلامی اب بھی ان ایشوز سے جان نہیں چھڑاسکی۔ آپ جماعت اسلامی کے احتجاجی جلوسوں کا ریکارڈ نکالیں تو پتہ چلے گا کہ پچاس فی صد سے زیادہ بنگلہ دیش، ترکی، امریکہ اور میانمار وغیرہ کے ایشوز پر نکالے گئے لیکن پاکستان کے داخلی اور عوام سے متعلقہ ایشوز پر بہت کم سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس حد سے زیادہ بین الاقوامیت نے بھی جماعت اسلامی کے وابستگان کو عوام سے بڑی حد تک لاتعلق کردیا ہے۔
عوامل اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ماضی قریب میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف نے پہنچایا ہے۔ یہ جماعت اپنی ساخت میں اور مقصد کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سے کوسوں دور ہے لیکن چونکہ اس کی نوک پلک امپائروں نے درست کی، اس لئے اس کی قیادت کو زیادہ تر جماعت اسلامی کے نعرے تھمادئیے گئے۔ اس نے جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف نعرےکو بھی اپنا لیا۔ چونکہ عمران خان ایک سیلیبرٹی تھے اور ان کے ساتھ وابستگی کی صورت میں انہیں جماعت اسلامی کی طرح پابندیوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا (جماعت اسلامی کی صفوں میں کئی سال تک اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ تصویر حلال ہے یا حرام ہے جبکہ موسیقی کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے جبکہ تحریک انصاف میں ہر طرح کے حدودو قیود سے آزاد رہ کر بھی انسان انقلاب کا نعرہ لگاسکتا ہے)اس لئے اس نے میدان میں آتے ہی نوجوان نسل میں انقلابی سوچ رکھنے والے جماعت اسلامی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی کے اندر خالص سیاسی ذہن رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھی پی ٹی آئی میں چلی گئی۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل خیبرپختونخوا میں چند وزارتوں کی خاطر پی ٹی آئی سے اتحاد کرکے خود ہی ٹھونک دی۔ اس اتحاد کی خاطر جماعت اسلامی کی قیادت نے جن مصلحتوں سے کام لیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وہ احتساب کا نعرہ لگاتی رہی لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کے ساتھ بدترین مذاق پر خاموش رہی۔ آفتاب شیرپائو کے نکالے جانے، پھر منتیں کرکے منانے اور پھر نکالے جانے پر خاموشی کے لئے کسی جماعت کے لئے بڑا بے ضمیر ہونا پڑتا ہے جس کی توقع جماعت اسلامی سے نہیں کی جاسکتی تھی۔وہ قانون کی بالادستی کے نعرے لگاتی رہی لیکن اس اتحاد کی خاطر سول نافرمانی کے اعلان کی مذمت بھی نہ کرسکی۔ بینک آف خیبر کے معاملے نے تو جماعت اسلامی کو عوام کی نظروں میں رسوا کرکے رکھ دیا۔ دوسری طرف قومی سطح پر سیاست کا مہار یا تو نوازشریف کے ہاتھ آگیا ہے یا پھر عمران خان کے ہاتھ میں۔ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کا دم چھلا تصور کیا جانے لگا۔ اس کی تازہ مثال پانامہ کیس ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہلے سراج الحق گئے اور جب لاک ڈائون ناکام ہوا تو امپائروں نے خان صاحب کو سراج الحق کی اقتدا میں سپریم کورٹ بھجوادیا لیکن کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں بھی اگر کریڈٹ ہوتو وہ پی ٹی آئی لے جارہی ہے جبکہ ڈس کریڈٹ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کررہی ہے۔ مثلاً بلدیاتی اداروں کے قانون کا کریڈٹ ملکی سطح پر تحریک انصاف نے لیا حالانکہ یہ وزارت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ اسی طرح پشاور کی سڑکوںکا کسی حد تک حلیہ درست کرنے کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیات کے وزیر عنایت اللہ کو جاتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ ملک بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک انصاف لے گئی۔دوسری طرف اگر احتساب کا مذاق اڑایا گیا یا پھر اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر ایک من پسند پولیس افسر کو لگادیا گیا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا براہ راست کوئی کردار نہیں لیکن بدنامی جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آرہی ہے کیونکہ وہ ان معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کے متحرک امیر سراج الحق اگر جماعت اسلامی کی طرف عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تووہ یہ منزل صرف ذاتی طور پربے پناہ محنت کرکے ہر گز حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے انہیں مذکورہ عوامل کی طرف توجہ دے کر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو اگلے انتخابات میں حشر حلقہ این اے 120سے بدتر ہو گا اور اگر ایم ایم اے بنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا دم چھلا بنایا گیا تو رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاست میں بدنامی بھی ہے اور ناکامی بھی مقدر ہے۔ 

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں


Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive, Pakistani politics, Pakistan, Jamaat-e-Islami Ki Siyasi Nakami, Jamaat-e-Islami, Pakistan Tehreek-e-Insaf,Column Source

Page 1 of 20