Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

What happened to 22 years student "Areeba"

Published: Feb 25, 2015 Filed under: Latest Beats Views: 2247 Tags:
[+] [a] [-] Related Beats Comments
22 years Areeba was a student of Punjab university,she was trapped to get an entry for modeling and then raped and murdered.

شوبز کی چکا چوند‘ کیمروں کی فلش لائیٹس‘ زرق برق لباس‘ راتوں رات شہرت اور امارت کا نشہ نوجوان لڑکوں بالخصوص لڑکیوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے‘ایسی لڑکیاں جن کی تربیت کمزور ہوتی ہے یا جن کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے فراڈیوں کے جھانسے میں آسانی سے آ جاتی ہیں اور اپنا سب کچھ لٹانے پر مجبور ہو جاتی ہیں‘ ایسا ہی کچھ پنجاب یونیورسٹی میں بی ایس سی کی طالبہ کے ساتھ ہوا۔ 22 سالہ اریبہ جس کا اصل نام عبیرہ اقبال تھا‘ سیالکوٹ کینٹ کی رہائشی تھی‘ اریبہ کو ماڈلنگ کا شوق تھا‘ اریبہ جب ٹی وی پر ریمپ پر چلتی لڑکیوں کو زرق برق لباس پہنے دیکھتی تھی تو اس کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی تھی کہ وہ بھی کبھی ریمپ پر اس طرح اپنے حسن کے جلوے بکھیرے‘ ریمپ پر واک کے بعد میڈیا کے لوگ اس سے انٹرویو لیں‘ میگزین کے سرورق پر اس کی بھی تصو یر شائع ہو‘ دنیا کے بڑے بڑے برینڈ اسے بھی اپنا برینڈایمبیسیڈر بنائیں‘ اریبہ بھی یہی سوچ لے کر اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی‘اسی شوق کے چکر میں اریبہ کی ملاقات طوبیٰ عرف عظمیٰ راﺅ سے ہوئی‘ طوبیٰ اپنے آپ کو اریبہ کے سامنے ماڈل ظاہر کرتی ہے‘ دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے‘ ایک ماہ قبل طوبیٰ عریبہ کو ماڈلنگ کا کام دلانے کا جھانسہ دے کر ماڈل ٹاﺅن کی ایک کوٹھی میں بلاتی ہے جہاں طوبیٰ کے ساتھی (بعض خبروں کے مطابق کزن) اریبہ کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور گلا دبا کر قتل کر دیتے ہیں‘اریبہ کی لاش کو ایک سوٹ کیس میں بند کیا جاتا ہے ‘ طوبیٰ لاہور کے علاقے شیراکوٹ میں 12 جنوری کو بس اڈے پر پہنچتی ہے‘ سیالکوٹ جانے کےلئے اپنی اور سوٹ کیس کی دو ٹکٹیں خریدتی ہے مگر بس میں سوار ہونے کے بجائے طوبیٰ سوٹ کیس چھوڑ کر وہاں سے رفو چکر ہو جاتی ہے‘پولیس واقعے کی اطلاع ملنے پر جائے وقوع پر پہنچتی ہے اور موبائل فون کے ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے طوبیٰ عرف ازمیٰ راﺅ کا سراغ لگالیتی ہے‘ گرفتاری کے بعد گفتگو کرتے ہوئے طوبیٰ نے کہا اسے سوٹ کیس اس کے کزن حیدر نے بس اڈے پر بک کرانے کیلئے دیا تھا‘ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس میں نعش ہے۔ ملزمہ کے مطابق فوٹیج میں اسکے ساتھ نظرآنیوالا مرد رکشہ ڈرائیور تھا۔ طوبیٰ نے بتایا کہ اس کے کزن حیدر نے ہی اریبہ عرف عبیرہ اقبال کو ماڈل ٹاﺅن بلایا تھا جبکہ وہ خو د فیصل ٹاﺅن میں رہائش پذیر ہے‘ پولیس نے حیدر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دئیے ہیں جبکہ مقتولہ اریبہ کے بھائی ذوہیب اقبال کا کہنا ہے کہ اس کی بہن کے قتل کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس قتل میں طوبیٰ سمیت 6 افراد ملوث ہیں جن میں رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طوبیٰ نے ماڈل ٹاﺅن میں بھی فرضی نام سے کرائے پر گھر لے رکھا تھا ‘دوسری طرف وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے طالبہ اریبہ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ ملزموں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایس پی انو یسٹی گیشن را نا ایا ز سلیم نے انکشاف کیا ہے کہ یہ لوگ ایک گروہ کی صورت میں کام کرتے ہیں اور طوبیٰ لڑکیوں کو مختلف بہانوں سے اپنے جال میں پھانستی تھی اور بعد میں انکے ساتھ غلط کاری کروائی جاتی تھی اور یہ گروہ فحاشی کے دھندے میں بھی ملوث تھا اورملزموں نے راز فاش کئے جانے کے ڈر سے مقتولہ کو قتل کر دیا تھا۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ریکارڈ کی مدد سے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا۔ مقتولہ عبیرہ عرف اریبہ کے بھائی زوہیب نے اپنی بہن کی قبر کشائی کیلئے درخواست دے دی ہے ،مقتولہ کو شناخت نہ ہونے پر ایدھی سروس نے لاوارث قرار دیکر دفنا دیا تھا ،مقتولہ کے بھائی کے مطابق اس نے اپنی بہن کے اغوا ءکیلئے وحدت کالونی میں درخواست دی جس پر بہت مشکل سے مقد مہ درج کیا گیا تھا اور اب پولیس نے اسکے بھائی کو مدعی بنا لیا اور اس کیس پر مکمل تفتیش کا آغاز کر دیا ہے‘ پولیس کے مطابق مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اریبہ کا کیس ایک نیا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ اریبہ کے بھائی زوہیب نے انکشاف کیا ہے کہ اریبہ کے قتل میں عظمیٰ راﺅ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی ملوث ہیں، جن کی جانب سے انہیں بھی قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔عبیرہ کے بھائی زوہیب نے وزیرِاعلیٰ پنجاب سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان میں اس وقت متعدد جعلساز اور اوباش لوگوں نے ڈانس اور آرٹ کے نام پر ایسی متعدداکیڈمیاں قائم کی ہوئیں ہیں جہاں پر روزانہ حواءکی بیٹیاں ان کے چنگل میں پھنس کر اپنی عزت سے محروم ہو رہی ہےں اور کچھ تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں‘ ان اکیڈمیوں میں نوسر باز خود کو فلم پروڈیوسر ، ڈانس ڈائریکٹراور رائیڑ ڈائریکٹرکہہ کر فلموں میں کام کرنے کی شوقین لڑکیوں اور نو عمر لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا کر انہیں بے راہ روی کی طرف لگا دیتے ہیں جبکہ بعض افراد ا میر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو ہیروئن بنانے کا جھانسہ دیکر ان سے لاکھوں روپے بٹور لیتے ہیں مگر وہ فلم اور ڈرامہ کبھی مکمل نہیں ہوتا جبکہ بعض لوگوں نے ان اکیڈمیوںکی آڑ میں لڑکیوں کے بکنگ آفس قائم کئے ہوئے ہیں کہ جہاں پر دن کی روشنی میں ان کی تصاویر یا لڑکیوں کو دکھا کر رات کی بکنگ کی جاتی ہے جبکہ یہاں پر بعض ایسے اڈے بھی ہیں کہ جہاں سے ملک کے دوسرے شہروں بلکہ دوبئی اور دیگر عرب ریاستوں میں لڑکیوں کی سپلائی ہوتی ہے‘ زیادہ تر آرٹ اکیڈمیاں دراصل فلموں یا ڈراموں میں معمولی کام کرنے والے افراد اور ایکسٹرا لڑکیوں کی سپلائی کرنے والے افراد نے قائم کی ہوئیں ہیں اگرچہ ان ادارو ں میں فلمی دنیا کے بعض نامور افراد بھی کام کرتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے‘ یہ لوگ اکیڈمیوں کی آڑ میں نہ صرف شہر بھر میں فحاشی پھیلا رہے ہیں بلکہ آرٹ کی تعلیم کے نام پر معصوم لڑکیوں کی عزت سے کھیل رہے ہیں اور فلم انڈسٹری کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

اریبہ کے بھائی کے اس انکشاف کے بعد کہ اسے قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک پورا ریکٹ ہے‘ اس طر ح کے ریکٹ پاکستان میں مختلف شہروں میں اس وقت سرگرم عمل ہیں نوجوان لڑکیاں جن کے نشانے پر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت ایسے ریکٹس کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دلوائے


Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment