Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

’بھارتی فوج کشمیری وزرا کو رقم دیتی ہے’جنرل وی کے سنگھ کا اعتراف

Published: Sep 24, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 663 Tags: general, indian, vk singh, kashmir, army, ministers, indian express, umar, umer, abdullah
[+] [a] [-] Related Beats Comments

ریٹائرمنٹ کے بعد سے جنرل وی کے سنگھ سیاست میں سرگرم ہیں

بھارتی فوج کے متنازع سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے دور میں ریاست جموں کشمیر کے ایک سینئر وزیر کو رقم فراہم کی گئی تھی لیکن اس کا مقصد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت گرانا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی وزرا کو سدبھاؤنا (جذبۂ خیرسگالی) کے تحت ریاست میں استحکام پیدا کرنے کے لیے رقوم فراہم کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور فوج آزادی کے بعد سے ایسا کرتی رہی ہے۔

’یہ میری ایجاد نہیں ہے۔۔۔ ریاست میں عوام کو شدت پسندی سے دور رکھنے کی کوششوں کےتحت کئی وزرا کو رقم فراہم کی جاتی ہے جسے وہ فلاحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔۔۔ اس میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے۔۔۔ فوج کے پاس اس بات کی نگرانی کا نظام موجود ہے کہ یہ رقم کہاں استعمال ہو رہی ہے۔‘

تاہم انہوں نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا کہ آیا رقومات کی ادائیگی کا وفاقی حکومت اور وزیرِ دفاع کو علم تھا یا نہیں۔ پہلے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فوج ریاست کے تمام وزرا کو رقوم فراہم کرتی ہے۔

جنرل سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ریاستی حکومت تبدیل کرانے، اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کی بات چیت خفیہ طور پر سننے اور جنرل بکرم سنگھ کو فوج کا سربراہ بننے سے روکنے کے لیے اپنی ہی نگرانی میں قائم کردہ فوج کا ایک خفیہ ادارہ استعمال کیا تھا جسے ان کے ریٹائر ہونے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔

مختلف ٹی وی چینلوں پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے جنرل وی کے سنگھ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس خفیہ ادارے نے فلاحی کاموں کے لیے ایک غیر سرکاری ادارے کو بھی رقم فراہم کی تھی۔ لیکن ان کےمطابق اس ادارے کا ’یس کشمیر‘ نامی اس این جی او سے کوئی تعلق نہیں تھا جس نے جنرل بکرم سنگھ کے خلاف فرضی مقابلے کے ایک کیس میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جنرل سنگھ کے انکشافات سے ایک نیا تنازع کھڑا ہوگا کیونکہ اب یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ ریاستی وزرا کو رقومات کی ادائیگی کا کس کس کو علم تھا، یہ رقومات کب سے اور کیوں دی جارہی تھیں اور یہ بات اگر وزیر اعلی عمر عبداللہ کے علم میں نہیں تھی تو ان سے کیوں چھپائی گئی۔

یہ الزامات خود فوج کی ایک خفیہ رپورٹ میں عائد کیے گئے تھے جس کی تفصیلات اخبار انڈین ایکسپریس نے شائع کی ہیں۔ یہ رپورٹ حکومت کو مارچ میں فراہم کی گئی تھی اور وزیر دفاع اے کے اینٹونی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ رپورٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد ہی اس پر کوئی کارروائی کی جائے گی۔

کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت پہلے ہی اس کیس کی سی بی آئی یا سپریم کورٹ کے جج سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

فوج کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل سنگھ کا دور انتہائی متنازع رہا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سرکاری ریکارڈ میں ان کی عمر غلطی سے ایک سال زیادہ درج ہے اور اسے ٹھیک کرانے کی کوشش میں وہ حکومت کو سپریم کورٹ تک لے گئے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی تھی۔

اس وقت بھی یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ فوج کے ماہرین نے خفیہ طور پر وزیر دفاع کا فون ٹیپ کیا تھا لیکن جنرل سنگھ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر اینٹونی سے ان کے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے تھے۔

اور گذشتہ ہفتے وہ وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آئے تھے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment