Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

یوریا کی قلت سے ملک میں غذائی عدم تحفظ کا خدشہ

Published: Sep 28, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 165 Tags: Shortage, urea, pakistan, risk, food, insecurity, agriculture
[+] [a] [-] Related Beats Comments

ملک میں یوریا کی مطلوبہ مقدار میں عدم دستیابی کے سبب اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں پہلے سے زبوں حال معیشت کے تناظر میں ملک کو فوڈ سیکیورٹی کے نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرٹیلائزر انڈسٹری کے باخبرذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ مطلوبہ مقدار میں یوریا کی عدم دستیابی اور زائد قیمتوں کے سبب چھوٹے کاشتکار مسائل کا شکار ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سال2011 میں جب بیشترزرعی ضروریات کی حامل اشیا کاشتکاروں کی قوت خرید کے مطابق تھیں توگندم کی ریکارڈ 25 ملین ٹن پیداوار ہوئی تھی جبکہ سال2013کے دوران ملک صرف 23.4 ملین ٹن گندم کی پیداوار ہوسکی جو پیداوار میں کمی کی نشاندہی ہے، یہی وجہ ہے کہ طویل دورانیے کے بعد پاکستان کورواں سال 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

معلوم ہوا ہے کہ رواں سال ربیع سیزن میں یوریا کا استعمال محض 2.85 ملین ٹن رہا جو ماسوائے ربیع 2012 کے گزشتہ 5سال میں سب سے کم ہے، گزشتہ 5 سال کے دوران گندم کے بوائی سیزن کا جائزہ لیا جائے تو سال 2009-10 کے دوران یوریا کا استعمال 3.25 ملین ٹن بلندترین اور2010-11 میں یہ 2.71 ملین ٹن کے ساتھ پست ترین سطح پر رہا، گندم کی قومی پیداوار میں گزشتہ 2 برسوں میں تنزلی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین اس رجحان کا ذمے دار یوریا فرٹیلائزر کی قلت اور بلند قیمتوں کو قرار دیتے ہیں جس کے باعث کاشت کار یوریا کے کم استعمال پر مجبور ہیں۔

اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ یوریا کی بلند قیمت اور قلت سے ملک میں فرٹیلائزر کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یاد رہے کہ فرٹیلائزر کا استعمال 2009 میں 6.5 ملین ٹن تھا جو 2012-13 میں کم ہوکر 5.3 ملین ٹن رہ گیا۔ واضح رہے کہ یوریا کے نرخوں میں اضافے کی وجہ جی ایس ٹی اور گیس انفرااسٹرکچر ٹیکس کے ساتھ فرٹیلائزر سیکٹر کی غیرمعمولی گیس کٹوتی سے فرٹیلائزرکی پیداواری صلاحیت میں کمی ہے۔ یاد رہے کہ یوریا کا استعمال پیداوار پر تقریباً 25 فیصد مثبت اثر ڈالتا ہے، یوں یوریا کے محدود استعمال کا نتیجہ کم پیداوار کی صورت میں نکلتا ہے۔

ماہرین تصدیق کرتے ہیں کہ 40 کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے 23 ملین ایکڑ پر گندم کی بوائی کی قدر پاکستان میں 24 ارب روپے کے برابر ہے، یوں ضرورت کے وقت یوریا کی عدم دستیابی کے نتائج 5 تا 10 من فی ایکڑ کم پیداوار کی صورت میں نکل سکتے ہیں، اس طرح قومی خزانے کو 120 سے 240 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے جو نہ صرف ملک میں ’’غذائی عدم تحفظ‘‘ کی صورتحال کو گمبھیر بنائے گا بلکہ گندم اور روزمرہ استعمال کی متعلقہ غذائی اشیا کے نرخوں میں زبردست اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ خیال رہے کہ گندم کی اس صورتحال نے پہلے ہی شہری علاقوں کا متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، فی ایکڑ زرعی پیداواری لاگت 2008-09 میں 4450 روپے تھی جو 2012-13 میں 83 فیصد بڑھ کر اوسطاً 8125 روپے فی ایکڑ ہوچکی ہے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment