Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

چارا سکینڈل : لالو پرساد کو جیل بھیج دیا گیا

Published: Sep 30, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 216 Tags: lalu, parsad, yadav, curroption, jailed, indian, ranchi, chara ghutaly, chaibasa
[+] [a] [-] Related Beats Comments

بھارت کے مقبول سیاست دان لالو پرساد یادو کو بد عنوانی اور غبن کے ایک پرانے معاملے میں رانچی کی ایک ذیلی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔

فیصلہ آتے ہی پولیس نے لالو یادو کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔

عدالت ان کی سزا کی مدت کا فیصلہ تین اکتوبر کو سنائے گی۔

یہ معاملہ 1996 کا ہے اور اسے چارا گھپلے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بد عنوانی کے اس معاملے میں لالو اور بعض دوسرے سیاست دانوں اور اعلیٰ افسروں پر اربوں روپے کے خرد برد کا الزام ہے ۔

رانچی کی ایک ذیلی عدالت نے اس مقدمے میں لالو اور 40 سے زیادہ اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں کو قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت سزاؤں کی مدت پر کل غور کرے گی اور تین اکتوبر کو سزاؤں کی مدت کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ انہیں تین برس سے زیادہ کی سزا ہو گی۔

لالو پرساد پر براہ راست خرد برد کا الزام نہیں ہے لیکن انہیں مجرمانہ سازش کرنے، بطورِ وزیر اعلیٰ غبن کا علم ہوتے ہوئے بھی اسے روکنے کے لیے کچھ نہ کرنے اور قصورواروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مجرم پایا گیا ہے۔

دہلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمے میں سزایاب ہونے کے ساتھ ہی لالو کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جائے گی اور وہ آئندہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

لالو پرساد کو رانچی جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ تین اکتوبر کے بعد عدالت کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بی جے پی کی ترجمان نرملا سیتا رمن نے عدالت کے فیصلے کو ’بھارت کی سیاسی تاریخ میں سنگ میل‘ قرار دیا ہے

لالوپرساد کی حریف جماعت جنتا دل یونائٹڈ نے کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ بہت تاخیر سے آیا لیکن اس کی ضرورت تھی۔‘

جنتا دل کے ایک دیگر رہنا صا بر علی نے کہا کہ ’اس فیصلے سے یہ پیغام جائےگا کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنماؤں کو بھی سزا مل سکتی ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لالو پرساد کی جماعت آر جے ڈی کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں سامنے نہیں آیا ہے لیکن بلا شبہ یہ ان کی پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے

اس سے قبل ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کی سی بی آئی عدالت نے 17 ستمبر کو اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

اس مقدمے میں جج تبدیل کرنے کی لالو یادو کی عرضی سپریم کورٹ نے 13 اگست کو خارج کر دی تھی جس میں لالو یادو نے ٹرائل کورٹ کے جج پی سنگھ پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگایا تھا۔

لالو پرساد اور 44 دیگر افراد پر چائیباسا خزانے سے 90 کی دہائی میں 37.7 کروڑ روپے نکالنے کا الزام تھا

واضح رہے کہ 17 سال قبل چائیباسا غیر منقسم بہار کا حصہ تھا۔ چارا گھٹالے میں خصوصی عدالتیں 53 میں سے 44 مقدمات میں پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہیں۔

بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا، سابق وزیر ودیا ساگر نشاد ، آر کے رانا اوردھرو بھگت بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

رانا اور بھگت کو مئی میں ایک کیس میں پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

چائباسا خزانے سے مبینہ فرضی بل دے کر 37.7 کروڑ روپے نکالنے کا یہ معاملہ جب سامنے آیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے دھرو بھگت اور جگدیش شرما کی رکنیت والی اسمبلی کے کمیٹی سے اس کی جانچ کرانے کے احکامات دیے تھے۔

اس معاملے میں شیوانند تیواری، سریو رائے، راجیو رنجن سنگھ اور روی شنکر پرساد نے پٹنہ ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔

پٹنہ ہائی کورٹ نے 11 مارچ 1996 کو 950 کروڑ روپے کے مبینہ چارہ گھپلے کے معاملات کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دیا تھا۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/09/130930_lalu_fodder_scam_conviction_mb.shtml

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment