Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

پڑھے لکھے، مذہبی اور امیر نوجوان مگر کالعدم تنظیموں کے بھتہ خور

Published: Sep 12, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 265 Tags: pakistan, lahore, karachi, educated, graduate, student, people, police, kidnaping
[+] [a] [-] Related Beats Comments


پاکستان میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملک بھر میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں سے ہے۔

ان وارداتوں میں گرفتار ہونے والوں میں پچیس ایسے افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے پوسٹ گریجویٹ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

پنجاب پولیس میں انسداد دہشت گردی سکواڈ میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں لاہور اور شیخوپورہ سے اغوا ہونے والے دو تاجروں کے مقدمے میں جن سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اُن میں سے پانچ بی ایس سی مکینیکل انجینیرنگ اور بی ایس سی کمپیوٹر سائنس ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق یہ ملزمان شدت پسندانہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں اور اُنہوں نے یہ کارروائیاں اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنی جماعتوں کو درپیش مالی مشکلات کم کرنے کے لیے کی تھیں۔

پنجاب پولیس نے جامعہ پنجاب کے ہوسٹل میں مقیم ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ لاہور پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے ایک اہلکار کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانچ افراد پر مشتمل اس تنظیم نے لاہور میں مقیم اہم سیاست دانوں کے بچوں کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس کے بعد اُن کے ورثا سے بھاری تاوان طلب کیا جانا تھا۔
پولیس اہلکار کے مطابق پنجاب میں مبینہ اُزبک باشندوں کا ایک گروہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہے اور اس گروپ کا سرغنہ نعمت اللہ صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق ان ازبک باشندوں کا تعلق بھی کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے ہے۔

اس کے علاوہ بھتہ خوری کے واقعات میں ملوث بعض گروہوں کا تعلق جنداللہ اور قاری عابد گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث افراد نے مغوی کے اہلخانہ سے بھاری تاوان کا مطالبہ کرنے کے علاوہ ہم خیال کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے بیس افراد کے رہائی کی ایک فہرست بھی پنجاب حکومت کو دی ہے۔

یہ افراد شدت پسندی کے مختلف مقدمات میں پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔ان افراد کو وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث ایک اور ملزم فرہاد بٹ کا نام سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے اسی گروپ نے اکبری منڈی کے ایک تاجر کو اغوا کیا تھا اور بعدازاں دس کروڑ روپے وصول کرنے کے بعد اُنہیں چھوڑ دیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سابق کلِک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں کالعدم تنظیم القاعدہ کے رکن افضال ملوث ہیں جن کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد سے بتایا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے پولیس سے نہیں بلکہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے مدد مانگی ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کے 74 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے مجموعی طور پر سات ارب روپے سے زائد کا تاوان مانگا گیا ہے۔ ان مقدمات میں پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق جن واقعات میں کالعدم تنظیموں کے مبینہ کارکن ملوث ہیں، ان کی تفتیش انسداد دہشت گردی سکواڈ کو سونپ دی گئی ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ پنجاب کے تجارتی شہروں بالخصوص لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں مختلف کالعدم تنظیموں کی جانب سے تاجروں کو بھتے کی پرچیاں اور موبائل پر فون آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ اس سے پہلے کراچی میں تاجروں کو بھتے کی پرچیاں دی جاتی تھیں۔

لاہور کے ایک تاجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اُنہیں بھتے کی کوئی پرچی تو نہیں آتی بلکہ اُنہیں موبائل فون پر کہا جاتا ہے کہ اتنے لاکھ روپے فلاں جگہ پر پہنچا دیں۔ لاہور کے علاقے اکبری منڈی کے ایک تاجر شاہد حسین کو اس سال دس کروڑ روپے کا تاوان لینے کے بعد رہا گیا گیا۔ رہا ہونے والے تاجر نے اس بارے میں بتانے سے انکار کیا کہ اُن کے اغوا میں کون سا گروپ ملوث ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جنوبی اور شمالی وزیرستان میں کام کرنے والی کالعدم تنظیمیں لاہور میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے مہمند قبیلے اور اس کے دویزی قبیلے کے افراد سے سال میں دو مرتبہ بھتہ وصول کرتی ہیں جو کہ ایک اندازے کے مطابق چالیس کروڑ سے زائد ہے، تاہم ان تاجروں نے کبھی بھی اس سے متعلق تھانے میں رپورٹ درج نہیں کروائی۔

صوبہ سندھ میں اس عرصے کے دوران اغوا برائے تاوان کے 53 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ کراچی میں ان وارداتوں میں ملوت 47 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے مقامی تعلیمی ادارں کے اٹھارہ طلبہ بھی شامل ہیں۔

کراچی میں سی آئی ڈی میں تعینات انسپکٹر زاہد بشیر کے مطابق ان وارداتوں میں تحریک طالبان کے مختلف گروپوں کے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

پاکستان میں اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف تفتیش جاری ہے لیکن اُن میں سے کسی ایک مقدمے کا بھی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے کیونکہ ابھی تک ان مقدمات کی تفتیش مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ یہ مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment