Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

نیروبی : ’حملہ آوروں میں امریکی اور برطانوی بھی شامل تھے‘

Published: Sep 24, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 171 Tags: kenya, nairobi, shopping center, attack, british, french, chinies
[+] [a] [-] Related Beats Comments

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر کو دہشت گردوں سے خالی کروا لیا ہے اور اس محاصرے میں باسٹھ افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم کینیا ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس محاصرے کے نتیجے میں تریسٹھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

اس سے قبل شاپنگ سینٹر کے اندر سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جب فوجیوں نے شاپنگ سینٹر پر دھاوا بول دیا تھا۔

کینیا کی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ تین ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا اور فرار کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے کینیا کی وزیر خارجہ آمنہ محمد کے حوالے سے لکھا ہے کہ شاپنگ سینٹر پر حملہ کرنے والوں میں ’ایک برطانوی اور دو سے تین امریکی‘ بھی تھے۔

پی بی ایس نیوز آور کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملہ آوروں کی عمریں 18 یا 19 سال تھی اور وہ مینیوسوٹا اور ایک اور جگہ کے رہائشی تھے۔ برطانوی حملہ آور کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خاتون تھی اور وہ پہلے بھی اس قسم کی کارروائیوں میں حصہ لے چکی تھی۔

شاپنگ سینٹر کی عمارت سے شعلے اور دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔

کے ڈی ایف یعنی کینین ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں نے توجہ ہٹانے کے لیے آگ لگائی ہے‘ اور یہ کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کام کر رہی ہے۔

ہفتے کو شروع ہونے والی اس کارروائی میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو ستر زخمی ہو گئے ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

صومالی شدت پسند گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور گروپ کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کینیائی افواج کی صومالیہ میں موجودگی کا بدلہ ہے۔

کینیا کی وزارتِ داخلہ کے جوزف اولی لینکو نے بتایا کہ ’کچھ دہشت گرد بعض دکانوں میں دوڑ کر چھپ رہے ہیں مگر شاپنگ سینٹر کی تمام منزلیں ہمارے قبضے میں ہیں۔ ان کے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے‘۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ کینیا کی حکومت کو اپنی مکمل مدد فراہم کر رہے ہیں۔

کینیا افریقہ میں امریکہ کی امداد حاصل کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔

خیال ہے کہ اب بھی صومالی شدت پسند تنظیم الشباب سے تعلق رکھنے والے دس سے پندرہ حملہ آور متاثرہ عمارت میں موجود ہیں۔ الشباب نے اس کے علاوہ 36 یرغمالوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اب تک اس واقعے میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، چین، گھانا، ہالینڈ، جنوبی افریقہ، بھارت، آسٹریلیا اور کینیڈا کے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

کینیا کے ایک وزیر کے مطابق کم از کم ایک ہزار افراد الشباب کے حملے کے بعد شاپنگ سینٹر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور اب ایک سپر مارکیٹ میں محصور ہیں۔ کینیائی صدر کے مطابق غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں میں خواتین بھی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق انھیں ذرائع نے خبر دی ہے کہ حملہ آوروں میں سے کم از کم ایک خاتون ہے جو بظاہر اس گروپ کی قیادت کر رہی ہے۔

الشباب صومالیہ میں کینیا کی طرف سے اپنی فوج بھیجنے کی مخالفت کرتی ہے۔ اس وقت صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کینیا کے 4000 فوجی موجود ہیں جہاں وہ 2011 سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

الشباب نے کچھ دن پہلے اس شاپنگ سینٹر پر حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ کینیا میں 1998 میں امریکی سفارتخانے پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد اب تک کا بدترین حملہ ہے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment