Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

نواز شریف حکومت کا اصل امتحان شروع ہو گیا

Published: Sep 12, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 333 Tags: pakistan, nawaz, sharif, imtihan, zardari, lahore
[+] [a] [-] Related Beats Comments



وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی حکومت اس لحاظ سے مبارکباد کی مستحق ہے کہ اسے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ کے لیے تمام بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کا مینڈیٹ مل گیا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس اور مشترکہ اعلامیہ جہاں حکومت کی بڑی کامیابی ہے، وہیں اس کا اصل امتحان بھی ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے گیند اب حکومت کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری کوئی سکیورٹی پالیسی نہیں، حکومت جو بھی پالیسی طے کرے گی، ہم اس پر عملدرآمد کے پابند ہونگے۔ یوںمحض سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ عسکری قیادت نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ وہ حکمت کی پالیسی کے ساتھ ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی مشکلات یہ ہوتی تھی کہ ایک طرف سیاسی قیادتیں مختلف سوچ کے ساتھ حکومت کی پالیسی کے برعکس موقف اختیار کرتی تھیں تو دوسری طرف سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان بھی فیصلوں میں فاصلہ نظر آتا تھا۔ اس لحاظ سے اگر اے پی سی کے اعلامیہ پر عملدرآمد یا اس میں ناکامی ہوتی ہے تو یہ حکومت بالخصوص وزیراعظم نوازشریف کی ناکامی سمجھی جائے گی۔ اس اعلامیہ میں حکومت مخالف جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی، تحریک انصاف، اے این پی اور پیپلزپارٹی سب نے ہی حکومت کی حمایت کرکے ایک اچھا تاثردیا ہے ۔ عمران خان جو حکومت کے بڑے مخالف ہیں انہوں نے بھی وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات اور اے پی سی کے عمل کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلامیہ کی روشنی میں حکومت کیاحکمت عملی اختیار کرتی ہے کیونکہ جو اعلامیہ جاری ہوا ہے اس پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے حکومت کی جانب سے اس اعلامیہ کی روشنی میں طالبان سے مذاکرات کرنے کے فیصلہ کی حمایت کی ہے۔ اس کانفرنس میں قومی سطح پر طالبان کے ساتھ مذاکرات یا طاقت کے استعمال پر جو رائے عامہ تقسیم تھی وہ بھی اس اعلامیہ کے بعد عملی طور پر ختم ہوگئی ہے۔ اب ان مذاکرات کو کامیاب کرانے میں حکومت کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف، جے یو آئی، جماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق کو کھڑا ہونا ہوگا۔اگر مذاکرات کاعمل ناکام ہوتاہے تو اس سے اس موقف کی پسپائی ہوگی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے دہشت گردی سے نجات ممکن ہے۔ یہاں اب طالبان کے مختلف گروہوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مذاکرات کے اس موقف کو بہتر طور پر استعمال کرکے اپنے اور ملک کے حق میں بہتری کے امکانات کو پیدا کریں۔ یہ خدشہ ضرور موجود رہے گا کہ طالبان کے جو مختلف گروہ ہیں ان سب کا مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا کس حد تک ممکن ہوگا۔ کیونکہ اگر بعض بڑے گروہ اس میں شامل نہیں ہوتے یا مذاکرات کے لیے سخت شرائط پیش کرتے ہیں تو معاملات میں خرابی کا امکان پیدا ہوگا۔ اصل مسئلہ طالبان اور حکومت کے درمیان ڈرون حملوں پر ہوگا۔ عمران خان کا یہ موقف بجا لگتا ہے کہ اگر حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور طاقت کے استعمال کو بیک وقت جاری رکھا تو اس سے مذاکرات کا عمل رک سکتا ہے لیکن اس میں بڑا مسئلہ حکومت کے لیے یہ ہوگا کہ امریکہ ان مذاکرات کے عمل میں اور بالخصوص ڈرون حملوں کو روکنے کے میں کس حد تک مدد فراہم کرے گا کیونکہ اگر امریکہ ڈرون حملوں کو ان مذاکرات کے دوران بھی جاری رکھتا ہے تو اس سے حکومت کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہوگا۔ جہاں تک ڈرون حملوں کے بارے سلامتی کونسل میں جانے کا تعلق ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن اس کے نتائج فوری نہیں ملیں گے۔ حکومت کا امتحان صرف طالبان کے ساتھ مذاکرات تک ہی محدود نہیں بلکہ کراچی اور بلوچستان کے معاملہ پر بھی حکومت کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔ حکومت نے کراچی کے مسئلہ پرساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال دی ہے لیکن لوگ صوبائی حکومت کو تو پہلے ہی مسئلہ کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس لیے اب کراچی اور بلوچستان کا بحران حل نہیں ہوتا تو لوگ وفاقی حکومت پر بھی الزام عائد کریں گے کہ وہاں کے حالات کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل وزیرداخلہ چودھری نثار کہتے تھے کہ امن و امان اور سکیورٹی کے مسائل میں سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا پہلو نمایاں ہے لیکن اب جو حالات سامنے آئے ہیں جہاں حکومت اور فوج کے بقول ہم ایک ہی موقف کے ساتھ ہیں تو مستقبل میں وزیرداخلہ یا حکومت ان اداروں پر الزام لگا کراپنا دامن نہیں بچا سکے گی۔ حکومت کو مذاکرات کے عمل میں خاصی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اگر اس پر جلد بازی یا مسائل کو سمجھنے میں غلطی کی گئی تو وہ جماعتیں جو پہلے ہی ان قوتوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حامی ہیں وہ حکومت پر چڑھ دوڑیں گی کہ یہ لوگ مذاکرات سے قابو میں نہیں آئیں گے بلکہ ان کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرنا ہوگا۔ دوسری طرف سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری ایوان صدر سے شایان شان طریقے سے رخصت ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ان کے اعزازمیں شاندار عشائیہ اور ان کے بارے میں تعریفی کلمات ادا کرکے صدر زرداری کے سیاسی قد کاٹھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے ایک تاثر یہ بھی ملا ہے کہ دونوں جماعتیں سسٹم کو چلانے میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سابق صدر نے ایوان صدر سے نکل کر فوری طور پر لاہور کا رخ کیا جہاں وہ اپنی سیاست کے ساتھ ایک اہم کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہیں۔ صدر زرداری ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کی مستقبل کی سیاست کا بڑا محور پنجاب کی سیاست ہوگا۔ اس لیے وہ ایوان صدر سے نکل کر لاہور تو آگئے اور انہوں نے ایک سطح پر وزیراعظم نوازشریف کو واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ وہ پنجاب کے سیاسی میدان کو ان کے لیے اور عمران خان کے لیے خالی نہیں چھوڑیں گے۔ آصف علی زرداری کے بقول وہ اب پنجاب میں بیٹھ کر پارٹی کو نئے انداز سے منظم کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صدر زرداری اور پیپلزپارٹی دوبارہ ایک بڑی عوامی طاقت کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔ بالخصوص پنجاب کی سیاست جہاں ان کا اثرنفوذ کم ہورہا ہے۔ وہاں صدر زرداری بہت سے سیاسی بوجھ کے ساتھ کیا کچھ کرسکیں گے۔ ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کی کامیابی کا ایک بڑا امکان اسی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ جب وزیراعظم نوازشریف اوران کی حکومت بہت سے محاذوں پر کچھ کرنے کے بجائے ناکامی کے عمل سے دوچار ہوجائے۔ اگر تحریک انصاف کے پی کے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کا اثر اس کی مستقبل کی سیاست پر ہوگا اور پیپلزپارٹی اس سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی لیکن اگر پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری بھی ایک فرینڈلی اپوزیشن کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بارے میں رویہ اختیارکرتے ہیں تو اس سے پیپلزپارٹی کی بحالی کاعمل اور زیادہ مشکل ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر زرداری سکیورٹی مسائل کی وجہ سے کس حد تک عوامی سیاست کا انداز اختیار کرتے ہیں اور ملک کے اندر بھی رہتے ہیں۔ ٭…٭…٭

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment