Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

مہاجر ریپبلکن آرمی کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں، وفاقی وزیر داخلہ

Published: Sep 19, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 172 Tags: Pakistan, international, police, sindh, army, nisar, muhajir, republican, target, operation
[+] [a] [-] Related Beats Comments
اپر دیر واقعے سے طالبان سے مذاکرات کے معاملات کو دھچکہ لگا تاہم کوئی ہمیں جنگ بندی کا مشورہ نہ دے، چوہدری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کا متحدہ قومی موومنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انٹیلی جنس رپورٹ مہاجر ری پبلکن آرمی کا تعلق کہیں اور بتاتی ہے۔

قومی اسمبلی میں کراچی آپریشن کے حوالے سے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے چوہدری نثٓار نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن وفاقی حکومت نے شروع کرایا اور اس کی نگرانی بھی وفاق ہی کررہا ہے، اس آپریشن پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار صوبے اور مرکز میں مختلف جماعتوں کی حکومت ہونے کے باوجود آپریشن ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران رینجرز نے 400 اور پولیس کے ایک ہزار آپریشن کئے جس میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ملزمان سمیت دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مہاجر ری پبلک آرمی کا تعلق ایم کیو ایم سے نہیں، خفیہ رپورٹ اس کا تعلق کہیں اور بتاتی ہیں اور یہ رپورٹ سابق حکومت کے دور کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے بچنے کے لئے کراچی کے 250 سے زائد ٹارگٹ کلرز بھاگ کر شمالی وزیرستان میں روپوش ہوگئے ہیں لیکن وہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اندرون ملک بھی ان کے لیے کوئی جگہ نہی

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات ہوں، کراچی کی صورتحال یا امن کی مجموعی صورتحال، حکومت کوئی لوڈو نہیں کھیل رہی بلکہ سنجیدگی سے تمام صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس مکمل تیاری کے بعد بلائی گئی جس میں ٹارگٹڈ آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا اب اس میں جو رکاوٹ بنے گا وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کے پہلے مرحلے کے کچھ اہداف باقی ہیں، دوسرے مرحلے میں آپریشن میں مزید شدت آئے گی جبکہ تیسرا مرحلہ سب سے اہم ہوگا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے فوج اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور ملکی مفاد کے مطابق لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپر دیر واقعے سے طالبان سے مذاکرات کے معاملات کو دھچکہ لگا تاہم کوئی ہمیں جنگ بندی کا مشورہ نہ دے۔


Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment