Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

طالبان سےمزاکرات:نواز،اوباماملاقات میں روکاوٹ بنے

Published: Sep 20, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 205 Tags: Pakistan, international, war, army, chief, america, nawaz, sharif, obama, meeting, taliban
[+] [a] [-] Related Beats Comments
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے طالبان کے ساتھ حکومت پاکستان کے مذاکرات کے فیصلے پر امریکہ کی جانب سے تحفظات، خطہ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور خارجہ پالیسی کی نئی ترجیحات کے پیش نظر اپنے دورہ نیویارک کے دوران امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر کے ساتھ ملاقات طے تھی اور اس کا ایجنڈا بھی تیار کر لیا گیا تھا جس کی تصدیق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے کی اور نیویارک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وزیر اعظم میاںمحمد نواز شریف اور صدر اوبامہ کی ملاقات کے لئے تیار ی مکمل کر لی گئی ہے“۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے زیر اہتمام ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں جب تمام فریقین نے اتفاق رائے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو امریکہ نے اس فیصلے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوششیں شروع کر دیں کہ وہ آئندہ سال افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارت کو کر دار دینے پر اس کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جس پر پاکستان اور امریکہ  
کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم اپنے دورہ نیو یارک کے دوران 
امریکی صدر کی دعوت کے باوجود ملاقات نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ایک مضبوط رائے یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ امریکہ ہے، حکومت پاکستان نے مکمل نیک نیتی کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے تاہم طالبان امریکہ کی ایماءپر مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے مختلف حلیوں بہانوں سے کام لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے اثر میں ہیں، امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے محفوظ راستہ دینے کی خاطر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے مگر پاکستان اس کے حق میں نہیں ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ اس معاملے میں رعایت حاصل کرنے کے لئے پاکستانی طالبان پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر امریکی تحفظات کے حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”کسی ملک نے ان مذاکرات پر تحفظات کا اظہار نہیں کیا ہے“ ۔ ایک اور سفارتی حلقے کا موقف ہے کہ امریکی صدر وزیر اعظم پاکستان سے افغانستان سمیت خطہ کی صورتحال پر جامع بات چیت کے حق میں ہے ، اسی لیے انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کو دورہ امریکہ کی باضابطہ دعوت بھی تھی ، یہ بات چیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران غیر رسمی ملاقات میں نہیں ہو سکتی اس لئے امریکی صدر کی دعوت میں وزیر اعظم اکتوبر یا نومبر میں امریکہ کا دورہ کریںگے جس سے اختلافات کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں باہمی اعتماد کے فقدان کے باعث دونوں ممالک کے حکام چاہتے ہیں اعلیٰ سطح پر بات چیت سے قبل بیک ڈور چینل کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں، اس کے بعد سربراہی ملاقات ہو۔ ان حلقوں کا موقف ہے کہ اس بات پر اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلافات موجود ہیں جنھیں حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ برطانیہ اس معاملے میں اہم کر دار ادا کر رہا ہے تاہم اسے ابھی تک اسے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، شام کے معاملے پر برطانیہ کی جانب سے امریکی فیصلے کی مخالفت کا مطالعہ بھی اسی پس منظر میں کیا جا سکتا ہے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment