Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

شوگرملزنے چینی مہنگی کرنے کی دھمکی دیدی

Published: Oct 1, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 243 Tags: sugar price, sugar mills, pakistan, price increment, express news, sugar mills association
[+] [a] [-] Related Beats Comments

ملک میں چینی کی قیمتوں میں کمی باعث شوگر ملز مالکان نے کرشنگ سیزن 2013-14 کے لیے گنے کی قیمت 170 روپے سے کم کرکے 115 تا120روپے فی 40کلوگرام تک کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور گنے کی قیمت میں کمی نہ کرنے کی صورت میں ملک میں چینی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا عندیہ دیا ہے۔

جبکہ شوگر ملز مالکان کا مطالبہ منظور ہونے سے گنے کے کاشتکاروں کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔ ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق  حال ہی میں ہونے والے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں چینی کی ایکس مل پرائس47 روپے فی کلو گرام اور ہول سیل قیمت51.40 روپے فی کلوگرام جبکہ پرچون قیمت 54.27 روپے فی کلوگرام ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے نمائندوں نے اجلاس میں چینی کی قیمتوں کے اعدادوشمار سے مکمل اتفاق رائے کیا اور شکایت کی کہ ملک میں 2 سال کے دوران ایک طرف چینی کی قیمت 80 روپے سے کم ہوکر 50 تا55 روپے فی کلوگرام رہ گئی ہے تو دوسری طرف گنے کی قیمت 140سے بڑھا کر170 روپے فی 40 کلوگرام کردی گئی ہے۔

 پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ گنے کی قیمت کو چینی کی قیمت کے مطابق رکھا جائے اور چینی کی قیمتوں میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی تناسب سے گنے کی قیمت کم کرکے 115روپے تا120 روپے فی 40 کلوگرام تک مقرر کی جائے۔ متعلقہ حکام کے مطابق شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ اگر گنے کی قیمت کم نہیں کی جاتی تو چینی کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑے گا کیونکہ پیداواری لاگت بڑھے گی اور اگر قیمت نہ بڑھائی گئی تو شوگر ملز مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق اس بارے میں شوگر ایڈوائزری بورڈ کے آئندہ اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کیا جائیگا، اس دوران گنے و چینی کی پیداوار کے بھی تخمینہ جات و اعدادوشمار پیش کیے جائیں گے تاہم دستیاب ذخائر کے جو اعدادوشمار شوگر ایڈوائزری بورڈ کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے ہیں وہ تسلی بخش ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے پاس فی الوقت 18 لاکھ 34ہزار ٹن چینی کے ذخائر ہیں جو 3لاکھ 90ہزار ٹن ماہانہ کی کھپت کے لحاظ سے جنوری 2014 تک کیلیے کافی ہیں۔

http://www.express.pk/story/181019/

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment