Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا، میاں بلیغ الرحمان

Published: Sep 26, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 164 Tags: india, pakistan, most, favorite, nation, decision, islamabad, trade, indian, pakistani, prime, minister
[+] [a] [-] Related Beats Comments

وزیر مملکت میاں بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں  کیا جا رہا ہے تاہم پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کے دوران کھوکھرا پار موناباؤ راستہ کھولنے کے اعلان کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی میں مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت  برائے بلیغ الرحمان نے کہا کہ ملک کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے، بھارت کے حوالے سے کیا گیا ہر فیصلہ ملکی مفاد کے مطابق ہو گا ،یہ نہیں  ہو سکتا کہ ایک جانب بھارت پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی کرے اور دوسری جانب ہم اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دیں، بھارت سے جو بھی پیش رفت ہو گی وہ باہمی مذاکرات اور احترام کی صورت میں ہوگی، کھوکھرا پار مونا باؤ روٹ کھولنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے، توقع ہے کہ نوازشریف، من موہن سنگھ ملاقات میں  اس پر پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے سبزیاں جبکہ بھارت پاکستان سے پھل در آمد کرتا ہے، ابھی تک بھارت سے در آمدات کے لئے ایک ہزار  209اشیا کی منفی فہرست برقرار ہے۔ پاک بھارت سیکرٹری تجارت کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں  دور رواں  سال ہو گا تاہم اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ سونے کی درآمد پر ایک مخصوص وقت کے لئے پابندی عائد کی گئی تھی جو اٹھا لی گئی ہے، سونے کی درآمد پر کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں  نے بتایا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں  کے کمرشل شعبوں  کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے، حکومت نے دنیا کے 22 ممالک میں سفارت کاروں کی تقرریاں  کی ہیں اور مزید چند خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کے لئے غور کیا جا رہا ہے۔

بلیغ الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ 3 برس میں روس سے نہ گندم درآمد کی گئی اور نہ ہی برآمد کی گئی، اب حکومت نے روس سے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال09-2008 کے دوران  بیرون ملک سے 360 ری کنڈیشن بسیں اور کوچز، 4 ہزار 551 کاریں اور جیپیں اور 48 ٹرک درآمد کئے گئے،سال 10-2009 کے دوران 5 ہزار 630 کاریں، 538ٹرک اور 682 بسیں درآمد کی گئیں،11-2010 کے دوران 749 بسیں، 10 ہزار 761 کاریں اور 461 ٹرک منگوائے گئے ،12-2011 کے دوران ایک ہزار 469 بسیں، 55 ہزار993 کاریں جبکہ 360 ٹرک درآمد کئے گئے ،13-2012 کے دوران ایک ہزار 325 بسیں ، 45ہزار 417 کاریں جبکہ 435 ٹرک منگوائے گئے۔

http://www.express.pk/story/179459/

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment