Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

امریکہ میں نوجوان لڑکیاں جن بھوت اتارتی ہیں

Published: Sep 11, 2013 Filed under: Latest Beats Views: 2439 Tags: american, girls, bhoot, international, black, magic
[+] [a] [-] Related Beats Comments

برائن لارسن، ٹیس اور لارا شرکن بیک امریکی ریاست ایروزونا سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں ہیں جو مارشل آرٹس اور گھڑسواری پسند کرتی ہیں۔

مگر ان کی وجۂ شہرت انہیں دوسری نوجوان لڑکیوں سے الگ کرتی ہے اور وہ یہ کہ یہ سرِ عام جن بھوت سے نجات دلاتی ہیں اور اکثر   ٹی وی شوز پر نظر آتی ہیں۔     

اٹھارہ سالہ بائرن دوسری دو لڑکیوں ٹیس اور سوانا سے آٹھ سال قبل ایک کراٹے کلاس میں ملی تھیں۔

اکیس سالہ سوانا کا کہنا ہے کہ ’ہم بس اس کے بعد سے بہت قریب ہو گئیں اور مجھے نہیں پتہ مگر آپ جب ایک دوسرے کو مار رہے ہوتے ہیں تو خودبخود ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ہم اکٹھے کام کرتے ہیں۔ لڑنا اور اپنا اور دوسروں کا دفاع کرنا سیکھتے ہیں‘۔

یہ تینوں لڑکیاں اب کراٹے میں بلیک بیلٹ ہیں مگر مذہبی طور پر عیسائی ہونے کی وجہ سے اب انہوں نے بدروحوں اور جنوں بھوتوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن بھوت ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے انسان دکھ اور تکلیف کا شکار ہوتا ہے اور انسان کے گناہوں اور اعمال کی وجہ سے یہ بلائیں ان میں داخل ہو جاتی ہیں۔

ان تینوں کی تربیت بائرن کے والد ریورنڈ بوب لارسن نے کی ہے جو ایک پادری ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے پندرہ ہزار جن بھوت نکالے ہیں۔ یہ تینوں لڑکیاں بوب لارسن کے ساتھ امریکہ اور بیرون امریکہ برطانیہ وغیر میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

ٹیس کہتی ہیں کہ ’ہر ملک میں مختلف قسم کے جن بھوت ہوتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جادو ٹونے کا بہت زور ہے جس کی وجہ جے کے راؤلنگ کے ناول ہیری پوٹر کی کتابیں ہیں۔

ٹیس کہتی ہیں کہ ’یہ جو ہیری پوٹر میں منتر ہیں یہ ویسے ہی نہیں بنائے گئے بلکہ یہ حقیقی منتر ہیں جو کہ جادو ٹونے کی کتابوں سے بنے ہیں‘۔

یہ لڑکیاں اپنے آپ کو ’آزادی کے لیے لڑنے والا‘ قرار دیتی ہیں اور اس جادو ٹونے کے عمل کے دوران یہ چاندی کی بنی ہوئی صلیبیں اور بائبل استعمال کرتی ہیں تاکہ ان نام نہاد جنوں بھوتوں کو جہنم کی جانب بھگا سکیں‘۔

ان تینوں لڑکیوں کا سٹیج پر استقبال ایسے کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی مشہور یا نامور شخصیات ہوں۔ ان کے آنے سے پہلے تالیاں بجتی ہیں اور پھر یہ اعلان کرتی ہیں کہ ’ہم بعض جنوں بھوتوں کو دفع کرنے کی کوشش کریں گی‘۔

بائرن اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ یہ کوئی تھیٹر کی پرفارمنس ہے۔

’ایمانداری سے میں نے کبھی دکھاوا نہیں کیا میں صرف خدا کی طاقت کا اظہار کرتی ہوں۔ ہم یہ کیمروں کے سامنے کے لیے نہیں کرتیں کیونکہ میں نے تنہائی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔‘

بائرن کے والد ناقدین کی اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اتنی کم عمر لڑکیوں کا یہ سب کچھ سکھانا درست نہیں ہے۔

لارسن کہتے ہیں کہ ’یہ درست ہے کہ کم عمر بچوں کو شراب پینی اور سیکس کرنا سکھایا جاتا ہے مگر خدا کے لیے اخلاقی چیزیں کرنے پر اعتراض ہے۔‘

لارسن اور لڑکیاں جب اکیلے کسی کا جن بھوت نکالتے ہیں تو وہ چند سو ڈالر کی امداد مانگتی ہیں اور اس بات کو رد کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ پیسوں کی خاطر کرتے ہیں۔

لارسن کہتے ہیں کہ ’جب بھی خدا کے لیے کوئی کام کیا جاتا ہے تو پیسہ اور اس کے پیچھے مقاصد پر بات شروع ہو جاتی ہے‘۔

’لوگ منشیات سے بچاؤ کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں یا ماہرین نفسیات کو دیتے ہیں تو ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کہ روحانیت مفت میں ملے گی‘۔

’ایک عام بڑے چرچ کا پادری ملین ڈالر تک کماتا ہے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس کے کہیں بھی قریب تک نہیں ہیں‘۔

 اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اس کام کے لیے توجہ نہیں دلائی۔   بائرن کی ماں کہتی ہیں کہ لڑکیاں صرف مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تینوں لڑکیوں کی تعلیم گھر پر دی گئی اور اس کی وجہ ان کے بقول صرف یہی تھی کہ ان کے والد اکثر سفر پر رہتے تھے۔    مگر اب بائرن اور ٹیس کو کالج میں داخلہ مل گیا ہے اور سوانا پہلے ہی کالج کی طالبہ ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ جنوں اور بھوتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گی۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment