حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ زلزلہ سے متاثرہ علاقے آواران کے دورے پر جا رہے تھے۔

نامعلوم شرپسندوں نے ان کے قافلے پر راکٹ داغ دیا ، جو انکے قافلے سے کچھ دور ا گرا۔ حملے کے وقت ڈاکٹر مالک کے ساتھ بعض صوبائی سیکرٹری بھی ہمراہ تھے۔ آواران میں نامعلوم افراد نے وزیراعلیٰ ریسٹ ہاؤس پر علی الصبح دو راکٹ فائر کئے جو ویرانے میں گرکر زور دار دھماکے سے پھٹ گئے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دریں اثناء زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ کے زیرنگرانی ریلیف آپریشن گزشتہ روز بھی جاری رہا، این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی اشیاء سے بھرے 9ٹرک متاثرہ علا قوں میں پہنچ گئے۔

پی ڈی ایم اے نے زلزلہ سے متاثرہ افراد کیلیے ریلیف آپریشن کے تحت اب تک 225ٹرکوں کے ذریعے آوران اور کیچ کے علاقوں میں سامان خوراک، خیمے ، مچھر دانیاں، پانی کی بوتلیں ، پلاسٹک شیٹس ، دوائیں،فرسٹ ایڈہاکس اور پانی صاف کرنے کی کٹس بھی شامل ہیں بھجوادیے ہیں۔ بی بی سی کو انٹرویو میں عبدالمالک بلوچ نے کہا ایف سی صرف امدادی سامان کی حفاظت کر رہی ہے جبکہ باقی تقسیم انتظامیہ کر رہی ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں سے کارروائیاں روکنے کی اپنی سابقہ اپیل کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کئی مقامات پر مثبت جواب ملا ہے اور کئی جگہوں پر ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے ہیں لیکن وہ اس کی گہرائی میں نہیں جائیں گے۔

جلد ہی اقوام متحدہ کے اداروں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دی جائیگی ۔پنجاب حکومت کے گریڈ 16 اور اوپر کے تمام افسران بلوچستان کے زلزلہ زدگان کیلئے وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں ایک دن کی تنخواہ بطور عطیہ دیں گے اس امر کا فیصلہ گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اسلم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں متاثرین کے لئے پی ڈی ایم اے کے فیلڈ ہسپتال بھجوانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے پنجاب نے بلوچستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقہ میں کنٹرول روم قائم کر دیا ہے 

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment