پنجاب میں خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے میں لوگ مررہے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب آرام سے بیٹھے ہیں وہ ہیلی کاپٹر پر دوروں کے علاوہ کوئی کام بھی کرتے ہیں؟ کہیں عوام نے انہیں ووٹ دے کر غلطی تو نہیں کردی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد محمود خان پر مشتمل سنگل بینچ نے خسرہ اموات کیس کی سماعت شروع کی تو چیرمین شیخ زید اسپتال ڈاکٹر ظفر اقبال نے خسرہ سے ہونے والی اموات سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ جس میں بتایا گیا کہ خسرہ ویکسین کی اسٹوریج کا نظام ٹھیک نہیں ہے، عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے خسرہ کی روک تھام سے متعلق کئے گئے اقدامات کے بارے میں استفسار کیا تو جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس پڑی ہے۔

جسٹس خالد محمود خان نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ  جنرل کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ کوقوم تنخواہ دیتی ہے،قوم کی فلاح ان کااولین فرض ہے, صوبے میں ایک وبا سے لوگ مررہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب رپورٹ لے کر آرام سے بیٹھے ہیں اور ہیلی کاپٹر پر دورے کرتے پھر رہے ہیں ، کہیں عوام نے انہیں منتخب کرکے غلطی تو نہیں کی؟۔ تین دن کے اندرخسرہ کی ویکسین اوراموت کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، کیس کی مزید سماعت 14 اکتوبر کو ہوگی

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment