ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے فٹبالر لیونل میسی المیریا کے خلاف کھیلے جانے والے ایک میچ کے دوران زخمی ہو گئے۔

سنیچر کو کھیلے جانے والے اس میچ میں ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا نے المیریا کو دو کے مقابلے میں صفر گول سے شکست دی۔

لیونل میس نے میچ کے اکیسویں منٹ میں اپنے کلب کی جانب سے پہلا اور فٹبال لیگ کا آٹھواں گول کیا تاہم وہ آٹھ منٹ کے بعد زخمی ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔

چار بار فیفا کے سال کے بہترین فٹ بال کھلاڑی کا اعزاز جیتنے والے لیونل میسی کے منگل کو ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

برازیل کے کھلاڑی ایڈری آنو نے میچ ختم ہونے کے بعد کہا کہ انھیں امید ہے کہ میسی کی چوٹ زیادہ سخت نوعیت کی نہیں اور وہ آنے والے میچوں میں حصہ لیں گے کیونکہ وہ بہت اہم کھلاڑی ہیں۔

یہ ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا کی فٹبال لیگ میں مسلسل ساتویں فتح تھی۔

خیال رہے کہ لیونل میسی جمعہ کو ٹیکس فراڈ کے معاملے میں ایک ہسپانوی عدالت میں پیش ہوئے۔

سپین کی حکومت میسی اور ان کے والد کی جانب سے 40 لاکھ یورو سے زیادہ کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق 26 سالہ میسی اور ان کے والد جارج ہوریشيو پر سنہ 2007 سے سنہ 2009 کے دوران غلط ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا شبہ ہے۔

لیونل میسی کی جس آمدن پر ہسپانوی حکام کو اعتراض ہے وہ رقم انہیں پیپسی کولا، پراکٹر اینڈ گیمبل، ڈینون اور ایڈیڈاس جیسی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں کے نتیجے میں ملی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق بارسلونا کلب میسی کو تنخواہ کے طور پر سالانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یورو دیتا ہے اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ پانے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

اس کے علاوہ میسی نے مختلف اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ لاکھوں ڈالر کے معاہدے بھی کر رکھے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی کل سالانہ آمدن کا تخمینہ تقریباً 31 ملین یورو لگایا جاتا ہے۔

میسی نے سنہ 2000 میں تیرہ برس کی عمر میں بارسلونا فٹبال کلب میں شمولیت اختیار کی تھی اور تین برس بعد وہ مرکزی ٹیم کا حصہ بنائے گئے تھے۔

فٹبال کی دنیا کے ماہرین ان کا شمار اس کھیل کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کرتے ہیں تاہم مبینہ ٹیکس چوری کا یہ معاملہ میسی کی اس شبیہ کے لیے نقصان دہ ہے جس کے تحت ان کا شمار عالمی فٹبال میں سب سے انکسار پسند کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment