کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشاور میں بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اس لیے مذاکرات کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد رسانی نے  کہا ہے کہ ابھی تک فوج کے ساتھ فائربندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں جانب سے کارروائیاں جاری ہیں، پشاور بس دھماکا بھی ہماری کارروائیوں کا تسلسل ہے، ہم نے آئین بدلنے کا مطالبہ کیا جب کہ فوج ہمیں آئین میں رہ کر مذاکرات کرنے  کا کہہ رہی ہے مگر ہم آئین بدلنے کے اپنے کسی بھی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگر کسی طالبان کمانڈر نے اپنے طور پر حکومت سے کوئی معائدہ کیا تو اسے تسلیم نہیں کریں گے تاہم اگر ہمارا حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی فلاح اور پاکستان کو نقصان پہنچنے سے بچانے کیلئے مذاکرات کی دعوت میں پہل کی مگر حکومت سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

عمر خالد رسانی نے مزید کہا کہ جمعرات کو بھی کراچی میں 3  ماہ قبل گرفتار ہونے والے ہمارے 3 ساتھیوں کو قتل کردیا گیا، ہمارے ساتھیوں کے ساتھ خفیہ عقوبت خانوں میں رکھ کر کیا جانے والا سلوک اسلام اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اور اسی وجہ سے اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

http://www.express.pk/story/179883/

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment