پیرس میں ہر طرف سر ہی سر اور جسم ہی جسم تھے‘ لوگ بڑی بے تابی سے نئے سال کا انتظار کر رہے تھے‘ ہم کنکورڈ کے پاس کھڑے ہو گئے‘ کنکورڈ فرعون کے محل کا ستون تھا‘ 

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment