Health

Female vs Male doctor, Do you know better?

Published: Feb 16, 2017 Filed under: Health

آپ جب بھی کسی بیماری کا علاج کروانے جاتے ہیں تو خواتین ڈاکٹرز کو ترجیح دیتے ہیں یا مرد ڈاکٹرز کو؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مرد ڈاکٹرز آپ کا زیادہ بہتر علاج کر سکیں گے تو آپ کو فوراً اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق خواتین ڈاکٹرز مرد ڈاکٹرز کی نسبت مریضوں کی زیادہ بہتر نگہداشت اور خیال کر سکتی ہیں۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ خواتین ڈاکٹرز خصوصاً مریض بزرگوں کا نہ صرف بہتر علاج کرتی ہیں بلکہ ان کا خیال بھی رکھتی ہیں۔

خواتین ڈاکٹرز کے زیر علاج رہنے والے بزرگ افراد کے مرنے کی شرح کم دیکھی گئی جبکہ ان کے دوبارہ اسی بیماری کی وجہ سے پلٹ کر آنے کا امکان بھی کم ریکارڈ کیا گیا۔

یہ تحقیق دراصل طب کے شعبے میں مرد اور خواتین ڈاکٹرز کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات کا فرق دیکھنے کے لیے کی گئی۔ تحقیق میں دیکھا گیا ترقی یافتہ ممالک میں خواتین ڈاکٹرز کی تنخواہیں و مراعات مرد ڈاکٹرز کے مقابلے میں کم ہیں۔

امریکا میں کیے جانے والے تحقیقی سروے میں مرد و خواتین کو ملنے والی سہولیات کا جائزہ بھی لیا گیا جن کی مقدار برابر تھی البتہ تنخواہ میں 50 ہزار ڈالر کا فرق دیکھا گیا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اشیش جھا کا کہنا ہے کہ طب کے شعبہ میں خواتین ڈاکٹرز کی کم تنخواہیں طب کے معیار کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق حالیہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کسی ملک کی صحت کی سہولیات کو بہترین بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ایک اور پروفیسر انوپم جینا نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’سروے کے بعد اس بات کی ضرورت ہے کہ طبی شعبہ میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مرد و خواتین کے درمیان تفریق کو ختم کیا جائے‘۔

female vs male doctor, woman vs man doctor, news, health, health report, research report, doctor, international

Smoking is danger in front of child

Published: Feb 14, 2017 Filed under: Health

تمباکو نوشی صحت کے لیے نہایت مضر عادت ہے اور یہ نہ صرف پینے والے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی اتنی ہی نقصان دہ ہے جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے تاہم اپنے آس پاس کے افراد کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے سگریٹ کے دھوئیں میں وقت گزارتے ہیں۔

حال ہی میں امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایسے افراد خصوصاً بچوں کی نفسیات میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔ وہ سگریٹ نوشی کو عادت بد سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں اور اسے معمول کا عمل سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔

مذکورہ تحقیقی سروے کے لیے ماہرین نے امریکی ریاست فلوریڈا کے مختلف اسکولوں میں 50 ہزار سے زائد بچوں سے سولات پوچھے۔

ماہرین نے دیکھا کہ وہ بچے جنہوں نے اپنے گھر کے افراد، بڑوں یا دوستوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھا تھا، وہ بچے اسے ایک معمول کا عمل خیال کرتے تھے اور ان کی نظر میں سگریٹ نوشی کوئی ایسی عادت نہیں تھی جس سے چھٹکارہ پانا ضروری ہو۔

تحقیق میں شامل ایک ماہر طب کا کہنا ہے کہ نہ صرف سگریٹ نوش افراد کے ساتھ وقت گزارنا، بلکہ سگریٹ کے اشتہارات دیکھنا بھی اسے لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے کسی عمل کو معمول کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں تو ان میں اس عمل کو اپنانے کے امکانات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں شامل طبی ماہرین نے والدین اور بڑوں کی سگریٹ نوشی کو، بچوں کو سگریٹ نوش بنانے کی بڑی وجہ قرار دیا۔


smoking in front of children, smoking is dangerous for health, health, health tip, smoking, news, health news, psychology issues for children

China give a big surprise to Shaukat Khanum Hospital

Published: Feb 6, 2017 Filed under: Health International Pakistan



News Source:- http://hassannisar.pk/pakistan_83099.html

China give a big surprise to Shaukat Khanum Hospital

China give a big surprise to Shaukat Khanum Hospital, China, Shaukat Khanum, KPK Government, Pakistan politics, Health, International



Top 7 techniques to control blood pressure

Published: Jan 27, 2017 Filed under: Health


بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جو امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ سنگین حد تک بڑھا دیتا ہے۔
یہ مرض ہر تین میں سے ایک بالغ فرد کو لاحق ہوتا ہے جس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں اور اس کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ادویات مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

تاہم قدرتی طور پر بھی آپ اپنے طرز زندگی میں چند عادات اپنا یا بدل کر اس پر قابو پاسکتے ہیں۔

ایسے سات طریقے جن کے ذریعے بلڈ پریشر کو نارمل رکھا جا سکتا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

ورزش
جسمانی سرگرمیاں فشار خون سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ درحقیقت ورزش کو معمول بنالینا جسم پر زبردست اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے، ہفتہ بھر میں کم از کم 30 منٹ سے ایک گھنٹے کی ورزش بلڈ پریشر کی سطح کو کم رکھتی ہے، یہاں تک کہ صرف چہل قدمی کی عادت ہی دل کی صحت کیلئے بہترین ہے۔

سانس
آہستگی اور گہری سانسیں لینا بھی آپ کو پرسکون رہنے اور بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مدد دیتی ہیں، سانس کی ورزشوں سے دل کی دھڑکن کو بہتر بنایا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانیں بھی زیادہ لچکدار ہوجاتی ہیں۔

پرسکون رہنا
بہت زیادہ تناﺅ خون کے ابلنے کا سبب بنتا ہے کم از کم کچھ دیر کیلئے ضرور ایسا ہوتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق تناﺅ سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ خون کی رگیں سکڑ جاتی ہیں، جس سے بلڈ پریشر کچھ وقت کیلئے بڑھ جاتا ہے۔ تناﺅ اور ذہنی صحت کو معمول پر رکھنا مجموعی صحت کیلئے بہت ضروری ہے، جس کا بہترین ذریعہ کچھ دیر کیلئے تمام تناﺅ اور الجھنیں بھلا کر گھومنا ہے۔

کافی کا کم استعمال
یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کافی پینا پسند کرتے ہیں، اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے شکار نہیں تب بھی کیفین کے زیادہ استعمال سے گریز زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ یہ عنصر دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے۔ ابھی یہ تو واضح نہیں کیفین سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے، اس لئے دن بھر میں 4 کپ سے زیادہ کافی کا استعمال بلڈپریشر کا مریض بنادینے کیلئے کافی ہے۔

چائے کو زیادہ نوش کریں
چائے کا استعمال طویل المعیاد بنیادوں پر بلڈ پریشر کو بہتر بناتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق بارہ ہفتوں تک چائے کا استعمال بلڈ پریشر کی سطح کو 2.6 mmHg اسٹولک اور 2.2 mmHg ڈایاسٹولک کم کرتا ہے، اس حوالے سے سبز چائے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے جس کے بعد دودھ کے بغیر چائے کا نمبر ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز
سیگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، تو جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی آتا ہے، جس سے گریز امراض قلب اور فالج وغیرہ سے تحفظ کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

دہی کو غذا کا حصہ بنائیں
دہی میں شامل پروبایوٹیکس بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق دہی میں شامل یہ جز بلڈ پریشر میں کمی لاکر کولیسٹرول کو بہتر جبکہ بلڈ شوگر کی سطح کو بھی کم کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


Health News - 11 Losses spending more time sitting

Published: Jan 12, 2017 Filed under: Health

یہ تو اب کافی حد تک لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری یا دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کی مجموعی صحت کے لیے جتنی تباہ کن ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

درحقیقت طبی ماہرین تو اسے صحت کے لیے بہت زیادہ چینی اور سیگریٹ کے استعمال جتنا ہی خطرناک قرار دیتے ہیں۔

تو جانیے کہ یہ عادت آپ کو کن کن امراض کا شکار بناسکتی ہے۔

جگر کے امراض

2015 میں سامنے آنے والی ایک جنوبی کورین تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یا سست طرز زندگی دونوں جگر بڑھنے یا اس پر چربی چڑھنے کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ طبی جریدے جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ دن میں دس یا زائد گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک ہونا جیسے روزانہ کم از کم دس ہزار قدم چلنا جگر کے امراض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ اس تحقیق کے دوان ڈیڑھ لاکھ کے قریب مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 فیصد جگر کے امراض کا شکار ہیں۔

گردوں کے مرض کا خطرہ

ہر وقت بیٹھے رہنا گردوں کے سنگین امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ بات 2012 میں لیسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سامنے آئی تھی۔ محققین کے مطابق طرز زندگی کے عناصر اور گردوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے مگر یہ پہلی بار ہے یہ بات سامنے آئی کہ سست طرز زندگی گردوں کے امراض کا شکار بھی بناسکتی ہے۔ گردوں کے سنگین امراض میں یہ عضو خون کو ٹھیک طرح فلٹر نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں جسم میں کچرا جمع ہونے لگتا ہے اور بتدریج گردے فیل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر بیٹھنے کا دورانیہ 8 گھنٹے سے کم کردیا جائے تو اس خطرے میں کچھ حد تک کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ ورزش بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

کینسر

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مطالعے میں50 سے 71 سال کے 221000 افراد پر تحقیق کی گئی جو ریسرچ کے آغاز پر کسی دائمی بیماری کا شکار نہیں تھے۔ تحقیق کے بعد انسٹی ٹیوٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ زیادہ ٹی وی دیکھنے والے افراد میں کینسر اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسرچ میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کے ذیابطیس، انفلواینزا، پاکنسنز ڈیزیز اور جگر سے متعلق امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ مطالعے میں پایا گیا کہ جو افراد روزانہ تین، چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے کے 15 فیصدزیادہ امکانات ہوتے ہیں جبکہ جو افراد سات گھنٹے یا اس سے زائد ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں یہ امکانات 47 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

کمردرد

اگر تو آپ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہیں ؟ تو کمردرد کا 'استقبال' کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 9 گھنٹے یا اس سے زائد وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں کمردرد کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دفتری ملازمین خاص طور پر سست طرز زندگی کے عادی ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ذیابیطس، ہڈیوں کی کمزوری اور ڈپریشن کے ساتھ ساتھ کمردرد کے بھی مریض بن جاتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اوسطاً لوگ ساڑھے 5 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہیں۔محققین نے مشورہ دیا ہے کہ دن بھر میں کم از کم 2 گھنٹے کھڑے ہوکر گزارنا کمردرد کی تکلیف سے بچاسکتا ہے۔

قبض

اورینج کوسٹ میموریل میڈیکل سینٹر کے ڈائجسٹیو کیئر سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنے کے نتیجے میں لوگ قبض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن کا زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے کے نتیجے میں آنتوں کا نظام متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خوراک ہضم نہیں ہوپاتی اور قبض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ محققین نے مشورہ دیا ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کچھ منٹ تک اپنے ارگرد چہل قدمی کریں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے موثر عمل ثابت ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے سمیت ذیابیطس، بلڈپریشر، جگر کے امراض اور کینسر تک کا باعث بن سکتا طبی ماہرین اس عادت کو موجودہ عہد کے طرز زندگی کا سب سے نقصان دہ پہلو قرار دیتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

ذیابیطس

اگر تو آپ اکثر کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر گزار دیتے ہیں تو ذیابیطس کی تشخیص ہونے پر آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بات نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ماسٹریچٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہر وہ گھنٹہ جو بیٹھ کر گزارا جائے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 22 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ڈھائی ہزار کے لے لگ بھگ خواتین کا 8 روز تک جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارا ان میں اس مرض کا خطرہ بڑھ گیا۔ محققین کے مطابق نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ سست طرز زندگی ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہونے یا اس کی روک تھام کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

امراض قلب

ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دفتری اوقات، ٹیلیویژن دیکھتے، کمپیوٹر پر کام کرتے، سفر کے دوران یا کسی بھی وجہ سے بیٹھ کر وقت گزارنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین کے مطابق ابھی یہ واضح تو نہیں بیٹھنے کی یہ عادت خرابی صحت پر اتنے منفی اثرات کیوں مرتب کرتی ہے تاہم یہ اندازہ ہے اس سے چینی اور چربی کو ہضم کرنے کے عمل پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذہانت کے لیے تباہ کن

ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھا رہنا نہ صرف آپ کو موٹاپے کا شکار بناتا ہے بلکہ یہ آپ کے دماغ کو بھی سکڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ایسے مرد و خواتین جو اپنی عمر کی چوتھی دہائی میں ان فٹ یا بیٹھے رہنے کے عادی ہوتے ہیں ان میں 60 سال کی عمر کے بعد دماغ کے گرے میٹر کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور وہ ذہنی آزمائش میں بھی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق بیشتر افراد اپنی دماغی صحت کے بارے میں بڑھاپے سے قبل سنجیدگی سے نہیں سوچتے مگر ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مخصوص رویے اور درمیانی عمر میں خطرات کا باعث بننے والے عناصر کے نتائج بڑھاپے میں بھگتنے پڑتے ہیں۔

ہڈیوں کی کمزوری

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اپنا زیادہ وقت کمپیوٹرز کے سامنے بیٹھ کر گزارنے کے نتیجے میں انسانی ہڈیاں کمزور ہوکر رہ جاتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زمانہ قدیم میں انسانی ہڈیاں بن مانسوں جتنی مضبوط ہوتی تھی تاہم کاشتکاری کے آغاز کے بعد ان کی مضبوطی میں 20 فیصد کمی آئی اور فریکچر کا خطرہ بڑھ گیا۔ مگر موجودہ عہد میں ہڈیوں کی کمزوری پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چکے ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہمارا خطرناک حد تک سست طرز زندگی ہے۔ محققین کے مطابق درحقیقت انسانوں کا جسم کسی گاڑی یا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہنے کے لیے نہیں بلکہ وہ سرگرمیاں مانگتا ہے۔

موٹاپا

امریکن جرنل آف فزیکولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے نتیجے میں ایسے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے جو چربی کو گھلانے کا کام کرتے ہیں اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سب سے پریشانی کا امر یہ ہے کہ آپ جتنا زیادہ وقت اپنے جسم کو غیرمتحرک رکھتے ہوئے گزارتے ہیں اس کے نتیجے میں طاری ہونے والا موٹاپے سے نجات پانا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔

فالج

لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اپنا زیادہ وقت ٹیلیویژن، کمپیوٹر اسکرین یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اسکرین کے سامنے روزانہ 4 گھنٹے گزارنا خون کی شریانوں کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس کے نتیجے میں فالج سے موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق جسمانی سرگرمیوں سے دوری زندگی کے لیے خطرات بڑھاتی ہے اور کسی بھی سبب موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سکتا ہے۔

News Source: http://www.dawnnews.tv/news/1035440/


Page 1 of 5