Powered by TheAquaSoft


Saleem Safi

"Jamaat-e-Islami Ki Siyasi Nakami" column by Saleem Safi - 03 October 2017

Published: Oct 3, 2017 Filed under: Saleem Safi

 ملکی سیاست کرپشن کے ایشو کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ نہ نوازشریف اور زرداری کی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور نہ عمران خان طرح وہ سینکڑوں کنال رقبے پر محیط گھر میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سراج الحق نے نتھیاگلی کے وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک دن بھی نہیں گزارا لیکن عمران خان صاحب نے اسے جتنا استعمال کیا، اتنا شاید گزشتہ بیس سالوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔ مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی طرح جماعت اسلامی خاندانی جماعت ہے اورنہ پی ٹی آئی کی طرح شخصی۔ اس کے اندر جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کراچی کے اردو بولنے والے درویش سید منور حسن امیر منتخب ہوجاتے ہیں تو کبھی افغان سرحد پر مسکینی گائوں کے دیہات میں ایک مولوی کے گھر جنم لینے والے پختون سراج الحق قیادت سنبھال لیتے ہیں۔سیاسی قائدین کی صف میں اگر کوئی رہنما سب سے زیادہ محنت کررہے ہیںتو وہ بلاشبہ سراج الحق ہی ہیں۔ صبح کراچی میں، دوپہر لاہور میں تو شام کو کہیں ملاکنڈ میں نظرآتے ہیں۔ تاہم ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں کمی آرہی ہے بلکہ وہ دن بدن قومی سیاست سے غیرمتعلق ہوتی جارہی ہے۔ وہ کراچی جہاں کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتاتھااور مئیر تک جماعت اسلامی سے منتخب ہوا کرتا تھا، وہاں آج انتخابی میدان میں جماعت اسلامی مقابلے کے بھی قابل نہیں رہی۔ لاہور جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سے جماعت اسلامی کے امیدوار منتخب نہ بھی ہوتے تو دوسرے نمبر پر ضرور آتے لیکن وہاں بدحالی کا یہ عالم ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں جماعت کا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکا۔بلوچستان میں توجماعت اسلامی پہلے عوامی سطح پرمقبول جماعت تھی اور نہ اب بن سکتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے تو وہاں پر بھی عملاً جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اب تو یہ لطیفہ نما فقرہ زبان زدعام ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی ہے جو صرف ملاکنڈ ڈویژن میں چل سکتی ہے۔چنانچہ جماعت اسلامی کی قیادت خواب تو کچھ اور دیکھ اور دکھابھی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صور تحال برقرار رہی تو اگلے انتخابات میںعوامی میدان میں جماعت اسلامی مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔
 
جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کررہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجائو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنالیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اورنہ مکمل سیاسی۔
 
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جارہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیرمحسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کرلیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیرمعمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوگیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی۔
 
تیسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کرلیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروںمیں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان بیٹھے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکارلیتے ہیں۔
 
قاضی حسین احمد مرحوم کے دور میں جماعت اسلامی کی سوچ کو جس طرح بین الاقوامی بنا دیا گیا، اس کی وجہ سے بھی جماعت اسلامی کو شدید نقصان پہنچا۔ جماعت اسلامی نے افغانستان اور کشمیر کو اپنی سیاست کا محور بنالیا تھا اور وہاں بری طرح مار پڑگئی لیکن جماعت اسلامی اب بھی ان ایشوز سے جان نہیں چھڑاسکی۔ آپ جماعت اسلامی کے احتجاجی جلوسوں کا ریکارڈ نکالیں تو پتہ چلے گا کہ پچاس فی صد سے زیادہ بنگلہ دیش، ترکی، امریکہ اور میانمار وغیرہ کے ایشوز پر نکالے گئے لیکن پاکستان کے داخلی اور عوام سے متعلقہ ایشوز پر بہت کم سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس حد سے زیادہ بین الاقوامیت نے بھی جماعت اسلامی کے وابستگان کو عوام سے بڑی حد تک لاتعلق کردیا ہے۔
عوامل اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ماضی قریب میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف نے پہنچایا ہے۔ یہ جماعت اپنی ساخت میں اور مقصد کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سے کوسوں دور ہے لیکن چونکہ اس کی نوک پلک امپائروں نے درست کی، اس لئے اس کی قیادت کو زیادہ تر جماعت اسلامی کے نعرے تھمادئیے گئے۔ اس نے جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف نعرےکو بھی اپنا لیا۔ چونکہ عمران خان ایک سیلیبرٹی تھے اور ان کے ساتھ وابستگی کی صورت میں انہیں جماعت اسلامی کی طرح پابندیوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا (جماعت اسلامی کی صفوں میں کئی سال تک اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ تصویر حلال ہے یا حرام ہے جبکہ موسیقی کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے جبکہ تحریک انصاف میں ہر طرح کے حدودو قیود سے آزاد رہ کر بھی انسان انقلاب کا نعرہ لگاسکتا ہے)اس لئے اس نے میدان میں آتے ہی نوجوان نسل میں انقلابی سوچ رکھنے والے جماعت اسلامی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی کے اندر خالص سیاسی ذہن رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھی پی ٹی آئی میں چلی گئی۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل خیبرپختونخوا میں چند وزارتوں کی خاطر پی ٹی آئی سے اتحاد کرکے خود ہی ٹھونک دی۔ اس اتحاد کی خاطر جماعت اسلامی کی قیادت نے جن مصلحتوں سے کام لیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وہ احتساب کا نعرہ لگاتی رہی لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کے ساتھ بدترین مذاق پر خاموش رہی۔ آفتاب شیرپائو کے نکالے جانے، پھر منتیں کرکے منانے اور پھر نکالے جانے پر خاموشی کے لئے کسی جماعت کے لئے بڑا بے ضمیر ہونا پڑتا ہے جس کی توقع جماعت اسلامی سے نہیں کی جاسکتی تھی۔وہ قانون کی بالادستی کے نعرے لگاتی رہی لیکن اس اتحاد کی خاطر سول نافرمانی کے اعلان کی مذمت بھی نہ کرسکی۔ بینک آف خیبر کے معاملے نے تو جماعت اسلامی کو عوام کی نظروں میں رسوا کرکے رکھ دیا۔ دوسری طرف قومی سطح پر سیاست کا مہار یا تو نوازشریف کے ہاتھ آگیا ہے یا پھر عمران خان کے ہاتھ میں۔ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کا دم چھلا تصور کیا جانے لگا۔ اس کی تازہ مثال پانامہ کیس ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہلے سراج الحق گئے اور جب لاک ڈائون ناکام ہوا تو امپائروں نے خان صاحب کو سراج الحق کی اقتدا میں سپریم کورٹ بھجوادیا لیکن کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں بھی اگر کریڈٹ ہوتو وہ پی ٹی آئی لے جارہی ہے جبکہ ڈس کریڈٹ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کررہی ہے۔ مثلاً بلدیاتی اداروں کے قانون کا کریڈٹ ملکی سطح پر تحریک انصاف نے لیا حالانکہ یہ وزارت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ اسی طرح پشاور کی سڑکوںکا کسی حد تک حلیہ درست کرنے کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیات کے وزیر عنایت اللہ کو جاتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ ملک بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک انصاف لے گئی۔دوسری طرف اگر احتساب کا مذاق اڑایا گیا یا پھر اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر ایک من پسند پولیس افسر کو لگادیا گیا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا براہ راست کوئی کردار نہیں لیکن بدنامی جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آرہی ہے کیونکہ وہ ان معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کے متحرک امیر سراج الحق اگر جماعت اسلامی کی طرف عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تووہ یہ منزل صرف ذاتی طور پربے پناہ محنت کرکے ہر گز حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے انہیں مذکورہ عوامل کی طرف توجہ دے کر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو اگلے انتخابات میں حشر حلقہ این اے 120سے بدتر ہو گا اور اگر ایم ایم اے بنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا دم چھلا بنایا گیا تو رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاست میں بدنامی بھی ہے اور ناکامی بھی مقدر ہے۔ 

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں


Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive, Pakistani politics, Pakistan, Jamaat-e-Islami Ki Siyasi Nakami, Jamaat-e-Islami, Pakistan Tehreek-e-Insaf,Column Source

"Nawaz Sharif Gadam Barha Rahay Hain Magar" column by Saleem Safi - 12th September 2017

Published: Sep 12, 2017 Filed under: Saleem Safi

Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive,Nawaz Sharif Gadam Barha Rahay Hain Magar, urdu article

"Kharja Policy Ke Challenges" column by Saleem Safi - 9th September 2017

Published: Sep 9, 2017 Filed under: Saleem Safi

Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive,America, India, Pakistan,Politics,Pakistani politics,Kharja Policy Ke Challenges,Pakistan foreign policy

"Kiya Waqaee Deshat Gardi Khtam Ho Rahi Hay" column by Saleem Safi - 22nd August 2017

Published: Aug 22, 2017 Filed under: Saleem Safi
Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive,America, India, Pakistan,Kiya Waqaee Deshat Gardi Khtam Ho Rahi Hay,Afghanistan,Terrorism,proxy war

"Mian Nawaz Sharif Ko Kyon Nikala Gaya" column by Saleem Safi - 16 August 2017

Published: Aug 16, 2017 Filed under: Saleem Safi

تین مرتبہ منتخب اور تین مرتبہ سابق ہوجانے والے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بار بار پوچھ رہے ہیں اور بڑی معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے اور آخر انہیں کیوں نکالا گیا ۔ حالانکہ اس کا جواب اگر انہیں معلوم نہیں تو نہیں ہوگا لیکن ہر باشعور پاکستانی کو معلوم ہے۔ میں نے بہت انتظار کیا کہ میاں صاحب کے کوئی خوشامدی تقریر نویس ان کو اس سوال کا جواب سمجھادیں گے لیکن چونکہ وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی سرکاری عہدے بانٹنے کا اختیار میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اس لئے شاید یہ تقریر نویس ان کو اس مقام تک پہنچانے کے بعد بھی خوشامد سے باز نہیں آئے ۔ وہ اب بھی میاں صاحب کے قدموں میں بیٹھ کر یا اللہ یا رسول ۔ نوازشریف بے قصور کے نعروں کے ساتھ، انہیں یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ میاں صاحب آپ ہیں تو ترکی کے طیب اردوان لیکن مصر کے محمد مرسی کی طرح نکالا گیا ، اس لئے آپ طیب اردوان کی طرح ڈٹ جائیں ۔ یہ خوشامدی مشیر اگر خوشامد کی بجائے بروقت میاں صاحب کو ان کی غلطیوں کی طرف متوجہ کرتے تو شاید وہ آج اس انجام سے دوچار نہ ہوتے لیکن یہ لوگ اگر اب بھی باز نہ آئے اور میاں صاحب ان کے بہکاوے میں آکر حسب سابق اپنے بارے میں غلط اندازوں کا شکار رہے تو اب کی بار خاکم بدہن اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ ملک کو بھی مصیبت میں ڈال دیں گے ۔ اسلئے ضروری سمجھا کہ میاں صاحب کو اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں۔

محترم و مکرم میاں نوازشریف صاحب !

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے قبل آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اب کی بار اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے صرف اور صرف اقتدار کی سیاست کی ۔ آپ جمہوری وزیراعظم تھے ۔ آپ کی قوت پارلیمنٹ تھی لیکن آپ کے دور میں پارلیمنٹ جتنی بے وقعت ہوئی ، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔ آپ تو کیا آپ کے وزراء بھی اس پارلیمنٹ میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اس پارلیمنٹ پر جمہوریت مخالف قوتوں کے بعض مہروں نے حملے کئے اور اس کی توہین کی اور آپ تماشا دیکھتے رہے۔ انہوں نے اس پارلیمنٹ سے استعفے دئیے اور اسے گالیوں سے نوازا لیکن آپ نے ان سے کوئی حساب نہیں لیا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے الٹا آپ نے منتیں کرکے ان کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لا بٹھایا ۔ وہ قانونی طور پراسمبلی کے ممبر نہیں ہیں لیکن آج بھی وہاں بیٹھے ہیں اور الٹا آپ کےا سپیکر نے ان کو ان آٹھ ماہ کی حرام تنخواہیں بھی ادا کردیں جن میں وہ ایک دن کے لئے بھی اسمبلی میں نہیں آئے تھے ۔ آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ آپ جس بھی راستے سے نکالے گئے وہ بے وقعت پارلیمنٹ آپ کو بچاسکتی ہے اور نہ آپ کے کسی مخالف کا راستہ روک سکتی ہے ۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے نہ تو احتساب کا منصفانہ نظام بنایا، نہ اچھی حکمرانی کے ذریعے طیب اردوان کی طرح عوام کے دل جیتے ۔ سویلین اداروں کو مضبوط کیا اور نہ نظام میں اسٹرکچرل تبدیلیاں لاسکے لیکن راتوں رات پاکستان کو ترکی اور اپنے آپ کو طیب اردوان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنرل (ر)پرویز مشرف کو آرٹیکل 6کے تحت سزا دینے کی ناکام کوشش کی ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ انتخابات کے چند روز بعد جب ہم آپ کے رائے ونڈ کے گھر میں بیٹھے تھے تو میں نے آپ سے گزارش کی کہ جنرل پرویز مشرف کو نہ چھیڑیں ۔ یاد ہوگا کہ عرض کیا تھا کہ پاکستان ابھی اس منزل سے کوسوں دور ہے کہ جس میں ایک ڈکٹیٹر کا محاسبہ ہوسکے لیکن آپ کو آپ کے خوشامدیوں نے اور میڈیا کے بعض عقابوں نے جو جنرل مشرف سے اپنا حساب برابر کرنا چاہتے تھے ،کے خلاف اقدام پر ابھار دیا۔ میڈیا میں موجود اس وقت کے آپ کے چہیتے آپ سے کہتے رہے کہ میاں صاحب قدم بڑھائو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ چنانچہ پھر جب آپ کے خلاف دھرنے دلوانے گئے تو آپ کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ یوں آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ پہلے آپ نے اپنے آپ کو برتر اخلاقی پوزیشن پر لائے بغیر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور پھر مجبور ہوکر ان کو جانے دیا ۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ قوم نے آپ کو وزیراعظم پاکستان منتخب کیا تھا لیکن منتخب ہونے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو وسطی پنجاب کا وزیراعظم بنا دیا۔ آپ نے بلوچستان میں سویلین بالادستی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ آپ نے سندھ کو وہاں کے منتخب نمائندوں کی مرضی کے خلاف سیکورٹی اداروں کے ذریعے چلانے کی کوشش کی ۔ آپ نے فاٹا کو فوج کے سپرد کئے رکھا۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی کے عوام سویلین بالادستی کے تصور سے ناواقف ہوگئے ہیں ۔ کم وبیش یہی حالات آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کےبھی ہیں ۔ فاٹا کے لوگ تو آپ سے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی صورت میں اپنے لئے بنیادی انسانی حقوق کی بھیک مانگتے رہے ۔ اور تو اور آپ کی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین اسمبلی کے فلور پر رودئیے لیکن آپ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کادل بہلاتے رہے ۔ اپنے پنجاب میں تو آپ نے رینجرز کے اختیارات پر بڑی لے دے کی لیکن کسی اور صوبے یا فاٹا میں کبھی سویلین اداروں کے اختیار کے لئے آپ فکر مند نہ ہوئے ۔ یوں نکالنے والوں کو یقین ہوگیا تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو پنجاب کے سوا کسی اور صوبے یا قومیت سے آپ کے حق میں آواز نہیں اٹھے گی ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے سی پیک جیسے اسٹرٹیجک اہمیت کے معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ پروجیکٹ محروم علاقوں کی محرومیوں کے لئے علاج اور دہشت گردی کے مسئلے کے لئے تریاق بن سکتا تھا لیکن آپ نے مغربی روٹ سے متعلق جھوٹ بول کر مشرقی روٹ پر کام کا آغاز کردیا۔ آپ نے اس کے ثمرات سے بلوچستان، گلگت بلتستان، پختونخوا اور فاٹا کو محروم رکھ کر سب چیزیں وسطی پنجاب میں سمیٹ دیں ۔ آپ کے اہل خانہ اور احسن اقبال کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ توانائی کے منصوبوں کے معاہدے کن شرائط کے ساتھ ہوئے ہیں ۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے آپ نے وسطی پنجاب کے اپنے نمائندوں کو تو خوشحال بنا دیا لیکن اس نے گلگت بلتستان ، بلوچستان ، آزادکشمیر اور پختونخوا کی محرومیوں کو مزید بڑھا دیا۔ چنانچہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو نہ صرف ان علاقوں کے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ شاید آپ کو بددعائیں بھی دے رہے ہوں گے ۔

دھرنوں کے موقع پر آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔ لیکن پھر جب سندھ میں ان کے ساتھ حساب برابر کیا جارہا تھا اور انہوں نے اینٹ سے اینٹ والا مشہور زمانہ بیان دے دیا تو ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے آپ نے اگلی صبح ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ۔ اب نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے ، اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

آپ کے دور میں وزارت خارجہ کاستیاناس ہوگیا۔ آپ نے چین ، ترکی ، سعودی عرب اور حتیٰ کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بدلنے کی کوشش کی ۔ فوج اور دفتر خارجہ کے مشورے کے برعکس آپ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں گئے ۔ پھر وہ پراسرار انداز میں آپ کے گھر آئے ۔ یہ انداز پاکستان میں ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

محترم میاں صاحب ! آپ نے کبھی فوج اور دیگر اداروں کے ساتھ بطور ادارہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ آپ اداروں کی بجائے شخصیات کو اپنانے اور ان پر کام کرنے کا رویہ اپناتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی قائم تھی جو حکومت کے ساتھ سول ملٹری تعلقات کا بوجھ اٹھاتی تھی ۔ آپ نے اقتدار میں آنے کے بعد وہ کمیٹی ختم کردی ۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی رہی لیکن آپ نے چار سالوں میں وہ کمیٹی قائم نہیں ہونے دی ۔ کیونکہ آپ فوج کے ساتھ تعلقات میں پارلیمنٹ یا اپوزیشن کو نہیں لانا چاہتے تھے ۔ اسی طرح آپ کابینہ کی دفاع اور قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس بلا کر متعلقہ فورم پر ادارہ جاتی انداز میں سول ملٹری تنازعات حل کرنے کی بجائے ون ٹوون خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے کام چلاتے رہے۔اس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں ہی نکلنا تھا اور شاید اس لئے آپ کو نکالا گیا۔ 

مذکورہ اور اسی نوع کے دیگر عوامل نے تو راستہ ہموار کیا لیکن میاں صاحب ! اصل قصور آپ کا یہ ہے کہ آپ وزیراعظم توپاکستان کے تھے لیکن آپکے بچوں اور آپکے وزیرخزانہ کے بچوں کا کاروبار باہر رہا۔ آپ تاثر دیتے رہے کہ بیرون ملک آپ کا کچھ بھی نہیں لیکن جب پانامہ اسکینڈل کی صورت میں آپ پکڑے گئے تو پھر مسلسل آپ کے اہل خانہ کی طرف سے بیانات بدلتے رہے ۔ آپ خود اس معاملے کو عدالت میں لے گئے ۔ خود ہی جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ۔ یہ درست ہے کہ عدالت میں تادم تحریر مخالفین آپ کو براہ راست کرپشن کا مرتکب ثابت نہ کرسکے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ اپنے آپ کو معصوم بھی ثابت نہ کرسکے ۔ مخالفین نے آپ کو جھوٹا یا بددیانت ثابت کیا یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بھی شواہد اور دلائل کے ساتھ اپنے آپ کو صادق اور امین ثابت نہ کرسکے ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

محترم میاں نوازشریف صاحب!

امید ہے آپ کو کسی حد تک آپ کے سوال کا جواب ملا ہوگا لیکن اگر اب بھی تشفی نہیں ہوئی تو میں مزید درجنوں صفحات سیاہ کرکے ، سینکڑوں مزید وجوہات تحریر کرسکتا ہوں جو آپ کو نکالے جانے کا موجب بنیں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ مزید یہ سوال نہیں اٹھائیں گے لیکن اگر اس کے بعد بھی اٹھایا تو ہم جیسے طالب علم مزید وجوہات سامنے رکھنے پر مجبور ہوں گے۔

Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive,Pakistan, Nawaz Sherif disqualification,Mian Nawaz Sharif Ko Kyon Nikala Gaya

"Fouj Aor Jamhooriat" column by Saleem Safi - 05 August 2017

Published: Aug 5, 2017 Filed under: Saleem Safi
Saleem Safi, Saleem Safi column, Saleem Safi urdu article, article, urdu article, jang article, jang column archive,America, India, Pakistan, Fouj Aor Jamhooriat,Politics,Nawaz Sherif,Pakistani politics

Page 1 of 6