Members

Username
Password
Remember Me

Ajmal Niazi

شیر دھاڑے گا یا لوگ دھاڑیں ماریں گے - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

Published: Nov 2, 2013 Filed under: Ajmal Niazi
اقتدار میں آنے کے بعد شیر کی دھاڑ،مار دھاڑ میں تبدیل ہو گئی ہے


دو سیاسی بہنوں کی ایک کہانی - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

Published: Oct 30, 2013 Filed under: Ajmal Niazi



سپریم کورٹ نے عائلہ ملک کی بہن فاروق لغاری کی بھانجی اور ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کی پوتی سمیرا ملک کو الیکشن کے لئے تاحیات نااہل کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ کے لئے خود چیف جسٹس افتخار چودھری سربراہ تھے۔ اس سے پہلے عائلہ ملک کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا ہے۔ تحریک انصاف اور ن لیگ میں نااہلوں اور لوٹوں کی کمی نہیں ہے۔ دونوں بہنوں کی ایک ہی کہانی ہے اس کہانی کا عنوان بھی ایک ہے۔ دونوں بہنیں جنرل مشرف کے زمانے میں ایم این اے رہ چکی ہیں۔ فاروق لغاری نے اپنی ملت پارٹی میں انہیں ”ملی سرمائے“ کی طرح رکھا۔ لغاری صاحب ان کے سیاسی ماموں بھی تھے۔ دونوں کو ایک ساتھ ایم این اے بنوایا۔ سمیرا وزیر بن گئی اور عائلہ وزیر کی بیوی بن گئی۔ یار محمد رند نے عائلہ ملک کو برقعہ پہنا کر قید کر لیا۔ جنرل مشرف نے سمیرا ملک کو ”وزیرنی“ کا مرتبہ دے کے ایوان صدر میں قائد بنا لیا۔ رتبے اور رشتے میں ہمارے حکمرانوں کے ہاں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

سمیرا ملک خوشاب سے جنرل الیکشن میں جیت گئیں۔ ان کے خاوند طاہر سرفراز بہت مقبول مقامی سیاستدان ملک نعیم کے بھانجے ہیں۔ وہ وزیراعظم جونیجو کے زمانے میں ایم این اے تھے۔ وہ پچھلے پندرہ سال سے ایک پُراسرار بیماری کا شکار ہیں۔ وہ مسلسل وینٹی لیٹر پر ہیں۔ اور اب بھی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے صرف دس بارہ مریض ہونگے لوگ انہیں یاد کرتے ہیں۔ ہمیشہ انہی کے خاندان کے لوگ الیکشن جیتتے ہیں۔ سمیرا ملک کو بھی یہی رعایت حاصل ہوئی۔ طاہر سرفراز کی نسبت سے وہ سمیرا ملک کے ماموں سسر ہیں۔ اُن کی زندگی میں ماموں کے کردار کی اہمیت بہت ہے۔ طاہر سرفراز فوج میں تھے تو کسی قابل نہ تھے۔ جونیجو صاحب کو مجبور کر کے انہیں سول سروس میں لے آیا گیا اور انہیں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد مقرر کر دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات سفارش اور سیاسی پریشر کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے تو ملٹری بیورو کریسی اور سول بیورو کریسی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیپٹن صفدر کو بھی نوازشریف فوج سے سول سروس میں لائے اب وہ ایم این اے ہیں اور نوازشریف کے داماد ہیں۔ اب جو چیئرمین نیب بنے ہیں۔ وہ بھی ملٹری سے سول سروس میں لائے گئے تھے۔ وہ وفاقی سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے باہمی رضامندی سے انہیں چیئرمین نیب بنا دیا۔ طاہر سرفراز اسلام آباد ہی میں عمر بھر اچھی پوسٹنگ پر فاروق لغاری اور سمیرا ملک کی وجہ سے فائز رہے۔

طاہر سرفراز سول افسر ہوتے ہوئے اپنی بیوی کی الیکشن کمپین چلاتا رہا۔ اس کی گاڑی پر ڈی سی گروپ لکھا ہوتا تھا۔ سمیرا ملک اپنی گاڑی پر بحالی گروپ لکھواتی تھی۔ وہ اپنے آپ کو مسلم لیگ کی ”بی بی“ سمجھتی ہے۔ ملک عمر اسلم جیت گیا تھا مگر جنرل مشرف نے سمیرا ملک کو جتوا دیا۔ اب وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر تھی۔ یقیناً اُس کی کامیابی نوازشریف کی نظر کرم کا نتیجہ ہو گی۔ عمر اسلم ہی کی درخواست پر سمیرا ملک نااہل ہوئی ہے۔ اب وہاں وہ اپنے بیٹے ملک عزیر کو لانا چاہتی ہے۔ عائلہ ملک کو عمران کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے عمران کے کزن انعام اللہ خان کی درخواست پر نااہل کیا گیا ہے۔ وہاں وہ اپنے کزن اور سمدھی وحید ملک کو لائی اور وہ بھی ہار گیا۔

اپنے حلقہ انتخاب داﺅد خیل میں فخر میانوالی شہید جنرل ثناءاللہ خان نیازی کے جنازے میں عمران شریک نہ ہوئے۔ مگر عائلہ ملک کے سابق خاوند یار محمد رند بلوچستان سے آ گئے شاید عائلہ ملک کی ملاقات بھی رند صاحب سے ہو گئی ہو؟

خوشاب کے جلسے میں اور کئی میٹنگز میں سمیرا ملک دیر سے آئیں۔ مگر اُسے ٹکٹ بھی مل گیا اور وہ جیت بھی گئیں۔ البتہ چودھری نثار نے سمیرا کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نہیں بننے دیا۔ ماروی میمن اور سمیرا ملک کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف اور نوازشریف کو نہ صرف گھائل کر لیا اور پھر ہر بات کے لئے مائل بھی کر لیا۔ اس حوالے سے امیر مقام ان دونوں سیاسی شہزادیوں پر بازی لے گئے ہیں۔ وہ پشاور سے ہار کر بھی نوازشریف کا مشیر بن گیا ہے۔ جنرل مشرف انہی کے مشوروں کے بعد اپنے گھر میں قید ہے۔ اللہ رحم کرے۔

عائلہ ملک نے عمران خان کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں اقتدار میں ہیں۔ لہٰذا ملک سسٹرز کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عائلہ ملک تو دوبارہ اینکر پرسن بن سکتی ہے۔ اسے عامر محمود نے اینکر پرسن بنانے کی بہت کوشش کی اور پھر عمران خان کی سیاست کے سپرد کر دیا۔ اسلم اقبال کو بھی عمران نے عامر محمود کے کہنے پر ٹکٹ دیا۔ وہ جیت گیا۔ عائلہ نااہل ہو گئی ہے۔ اسلم اقبال کو جنرل مشرف نے وزیر بھی عامر محمود کی سفارش پر بنوایا تھا۔ عائلہ ملک کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ دونوں بہنیں ”کامیاب“ ہونے کا ہُنر جانتی ہیں۔ بہرحال دونوں بہنوں سے میری پھر گزارش ہے کہ وہ سیاست میں فاروق لغاری کی مہربانی سے آئی ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ سمیرا ملک اور عائلہ ملک لکھنا چھوڑ دیں۔ سمیرا لغاری اور عائلہ لغاری لکھا کریں۔ ملک امیر محمد خان نواب کالاباغ سے ابھی تک اس کی اولاد کوئی انتقام لے رہی ہے۔

12 مئی 2007ءکو چیف جسٹس افتخار چودھری کو کراچی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ شہر میں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ اُسی دن جنرل مشرف اسلام آباد میں ایک جلسے میں مکہ دکھا کے اپنی طاقت کا اعلان کر رہا تھا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے سمیرا ملک کا ہاتھ دائیں ہاتھ سے شوکت عزیز کا ہاتھ پکڑا۔ اور کہا کہ ایک طاقت وہ ہے۔ ایک طاقت یہ ہے۔ ایک فاتحانہ مسکراہٹ سمیرا ملک کے چہرے پر جشن منا رہی تھی۔ کیا اب کسی جلسے میں نوازشریف اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔



شیر اور تیر میں ایک نقطے کا فرق ہے - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

Published: Oct 29, 2013 Filed under: Ajmal Niazi

پاکستانی عوام کا خون تیروں کی بارش نے نکالا اور شیر پی رہا ہے ۔ ۔ ۔ 




بلاول بھٹو جو کچھ بھی کرے۔وہ آصف زرداری کیلئے ”صدر“ زرداری کی سیاست سے بچ نہیں سکتا۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی امی شہید بے نظیر بھٹو کی سازشی موت کو اپنے سامنے رکھے۔ اس لئے بھارت کا راہول گاندھی بہت آگے ہے مگر اس نے بات وہی کی ہے جو بلاول کے دل میں ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ”بی جے پی نفرت کے بیج بو رہی ہے“ اب تو وہ اپنا بویا ہوا کاٹ رہی ہے۔ راہول نے کہا کہ ”مجھے دادی اندرا گاندھی اور ابو راجیو گاندھی کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔“ یہ دھڑکا بلاول کے دل میں بھی ہے‘ کچھ ڈال دیا گیا ہے‘ کچھ ”صدر“ کی سیاست بھی ہے پہلے اسے الیکشن کمپین چلانے نہیں دی گئی۔ دبئی بھیج دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو بھی دبئی گئی تھیں۔ بلاول اب الیکشن کے بعد آئے اور الیکشن کمپین چلانا شروع کر دی ہے۔

موروثی سیاست اور خاندانی حکومت بھارت کی جمہوریت میں بھی ہے۔ نہرو کی بجائے گاندھی بڑا ہندو لیڈر ہے۔ پاکستان میں بھٹو کے ساتھ زرداری کا نام آیا ہے۔ زرداری کا موازنہ گاندھی سے نہیں ہو سکتا۔ بھارت میں بھی جانشینی بیٹی سے چلی ہے۔ اندرا گاندھی کے بعد راجیو گاندھی‘ دونوں قتل ہوئے۔ پاکستان میں بیٹی تو قتل ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ بلاول کی عمر اتنی نہیں ہے جو راجیو کی تھی۔ اب لگتا ہے کہ راہول اور بلاول کی منزل ایک ہے۔ دونوں کو ابھی تک راستے کا پورا پتہ نہیں چلا۔ راہول ماں کی سیاست اور بلاول باپ کی سیاست کی قید میں ہے۔ سونیا گاندھی اور ”صدر“ زرداری دونوں کامیاب سیاستدان ثابت ہوئے ہیں جبکہ حکمت عملی دونوں کی ایک ہی ہے۔ ”حکومت عملی“ کہا جائے تو زیادہ بامعنی ہو گا۔ سونیا گاندھی عمل اور تدبیر کے ساتھ ساتھ ایثار اور قربانی میں بہت آگے ہیں۔

آصف زرداری نے صدر بننے سے پہلے کہا تھا کہ میں سونیا گاندھی بنوں گا۔ صبر و تحمل اور برداشت کے حوالے سے وہ بھی کامیاب ہوئے۔ اب بلاول بھٹو زرداری یہ نہ کہہ دے کہ میں راہول گاندھی بنوں گا۔ اس کا مقابلہ حمزہ شہباز سے ہو گا۔ مونس الٰہی بھی سیاست میں کامیاب ہو کے آیا ہے۔ وہ معمولی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ حمزہ اپنے خاندان میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ مریم نواز کی سیاست میں آمد سے کچھ شور ہوا تھا مگر زور شور نہ ہو سکا۔ کیپٹن صفدر سے تو مریم نواز نوجوانوں کی سیاست کے حوالے سے بہت بہتر ہےں۔ عمران کی پارٹی میں نوجوان تو ہیں نوجوان لیڈر کوئی نہیں۔ ”صدر“ زرداری نے ”دامادی“ سیاست کی دھاک بٹھا دی تھی۔ نواز شریف کے دور میں ”سمدھی“ سیاست رنگ لا رہی ہے۔ نجانے کس نے سلمان شہباز کو سامنے لانے کی سیاست شروع کی ہے۔ نواز شریف چین اور اب امریکہ میں اس کو ساتھ ساتھ لے کر پھرتے ہیں۔ سلمان شہباز سے امید ہے کہ وہ موروثی سیاست کے رازونیاز کو سمجھے گا۔ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی کو باپ کا رتبہ دیا ہے تو آگے چل کے بھی بھائیوں کا رشتہ گھر کے لئے مصیبت نہیں بنے گا۔ بڑے میاں صاحب مرحوم محمد شریف کو سعودی عرب کا نظام پسند تھا۔ وہاں بھائیوں نے ایک روایت کے تحت بڑے بھائی کے حق کو قائم رکھا ہے تو بات بنی ہوئی ہے ورنہ امریکہ وہاں بھی بہت کچھ کر سکتا ہے؟

سیاست میں بھائیوں کے اتفاق کے حوالے سے ایک بڑی مثال چودھری صاحبان کی بھی ہے۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی آپس میں کزن ہیں مگر بھائیوں سے بڑھ کر ہیں۔ شریف برادران اور چودھری برادران سمجھتے ہیں کہ خاندان کی یگانگت اصل طاقت ہے۔ ماضی میں علی برادران کا نام بہت نمایاں تھا مگر وہ حکومت میں نہ آئے تھے۔ اندھے اقتدار کے لئے بھائی اور دوست کی حیثیت کچھ مختلف ہوتی ہے۔ اورنگ زیب نے تین بھائیوں کو قتل کیا۔ اورنگ زیب یہ نہ کرتا تو کوئی دوسرا بھائی اسے قتل کر دیتا۔ بیوی کے قتل کا کوئی واقعہ تاریخ میں شاید نہیں ہے؟ بلاول کا اصل مقابلہ آصفہ بھٹو زرداری سے ہو گا۔

فاطمہ بھٹو کا نام اس تذکرے میں دل کے اندر لرزنے لگتا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی، پھوپھی کی وزارت عظمیٰ کے دوران اپنے باپ کو تڑپتے اور مرتے دیکھا ہے میں نے اس کے کالم پڑھے ہیں اور متاثر ہوا ہوں۔ وہ ایک گمشدہ شہزادی ہے۔ اس نے کبھی اپنے آپ کو تلاش کر لیا تو سیاست کی ملکہ بن سکتی ہے۔ ہماری تاریخ اور سیاست بیٹوں کے کردار سے بھری پڑی ہے۔ بیٹی اور بیوی کا معاملہ تو اب شروع ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو‘ اندرا گاندھی‘ خالدہ ضیاءاور حسینہ واجد

اسفند یار ولی باچا خان کا پوتا ہے مولانا فضل الرحمن مفتی محمود کا بیٹا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹے اور بیٹیاں اکثریت میں ہیں۔ جمہوریت زندہ باد؟ سیاسی جانشینی کے علاوہ صوفیانہ سجادہ نشینی صرف بیٹوں میں منتقل ہوتی ہے۔ مجھے جنرل حمید گل کا بیٹا عبداللہ گل اچھا لگتا ہے وہ اقتدار سے دور ہے مگر اس کے دل میں کئی آرزوئیں تڑپتی ہیں۔ ترکی کا عبداللہ گل یاد آتا ہے۔

بلاول نے لوگوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے خون پینے والے شیر کا شکار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خفا ہوا کہ اسے بلاول نے بزدل خان کہا ہے۔ بہادر تو کوئی بھی پاکستانی سیاست میں نہیں آیا۔ عمران نے تو شیر کے تکے کھانے کا اعلان کیا تھا۔ ایم کیو ایم کی پتنگ لوٹنے کی بات بھی اس نے کی مگر یہ پتنگ دبئی میں اس کے والد کے گھر کی چھت پر لہراتی ہوئی دیکھی گئی۔ پیپلز پارٹی کے جیالے سیاستدانوں نے بلاول کا دفاع جس خوشامدانہ طریقے سے کیا ہے۔ اس کا نوٹس بلاول کو خود لینا چاہئے۔ بلاول سے پہلے رضا ربانی کی تقریر بے بسی کی تصویر تھی۔ رضا ربانی کے لئے میرا خیال اچھا ہے اور اس تقریر کے بعد برا نہیں ہوا۔ یہ سیاست کی مجبوری ہے۔

بلاول نے کہا ہے کہ میں تیر ہوں اور صدر زرداری کمان ہیں۔ پھر تو وہ کسی نشانے سے زیادہ کسی نشانی پر جا لگیں گے۔ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ تیر کدھر جا رہا ہے۔ کئی لوگ پیپلز پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے ہیں۔ جن کو اچانک یہ شعر یاد آیا ہے۔....

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

بے چارے پاکستانی عوام کا خون شیر نے بھی پیا ہے مگر ان کا خون تیروں کی بارش سے بھی نکلا ہے اور خاک میں ملتا رہا ہے۔ تیر تو کمان سے پوچھ بھی

 نہیں سکتا کہ مجھے کس کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔ عوام بے چارے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کے سب کچھ سہتے رہتے ہیں۔ شیر اور تیر میں ایک نقطے کا فرق

 ہے اور ان کی باریاں مقرر ہیں۔ تیر کے لئے کمان جس کے ہاتھ میں ہے۔ اسی کے ہاتھ میں شیر کی رسی ہے۔


سفارت خانہ یا کارخانہ - اجمل نیازی

Published: Sep 23, 2013 Filed under: Columns Ajmal Niazi
کابل میں امریکی سفارت خانے کے اندر داخل ہوتے ہی پاکستانی وفد حیران رہ گیا۔ چودھری شجاعت نے بے ساختہ کہہ دیا کہ یہ سفارت خانہ ہے یا کوئی کارخانہ ہے۔ اتنی مشینری جدید ٹیکنالوجی، آلات اور نجانے کیا کیا وہاں موجود تھا۔ چودھری صاحب نے پھر ایک برجستہ سوال امریکی سفارت کار سے کر دیا۔ لگتا ہے آپ کا یہاں سے جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ امریکی سفارت کار کے منہ سے بھی سچ نکل گیا۔ ہمارا ارادہ یہاں سے جانے کا نہیں ہے۔ یہ بھی ایک سوال ہے جس پر غور کرنے سے آدمی لاجواب تو ہو سکتا ہے مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا
امریکہ کے علاوہ افغانستان میں بھارت کے متعدد سفارت خانے ہیں۔ اس کا مصرف صرف سفارت کاری تو نہیں ہے۔ ایک چھوٹے سے ملک میں اتنے زیادہ سفارت خانے بہرحال پریشانی کا باعث ہیں؟ بھارت کے اتنے سفارت خانے امریکہ میں نہ ہوں گے
بھارت افغانستان میں بہت سرمایہ کاری کر رہا ہے شاید یہ بھی سفارت کاری سے ملتی جلتی کوئی چیز ہے؟ بھارت افغانستان میں رہنا چاہتا ہے مگر بھارت کا انداز بھی حاکمانہ ہے اور افغانوں نے کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں ٹکنے نہیں دیا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ جب بھی افغانستان میں کوئی جینوئن حکومت آئی تو سب کو وہاں سے نکلنا پڑے گا۔ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جو کچھ کر رہا ہے سب کو پتہ ہے۔ ہم خود اپنے ملک پاکستان میں خلفشار، انتشار، دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔ دوسرے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بلوچستان میں مداخلت کی شکایت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کی تھی۔ پھر اس کی اپنی ذاتی شکایتیں پاکستان کے اندر اتنی زیادہ ہو گئیں کہ وہ اس بات سے غافل ہو گئے۔ ورنہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں من موہن سنگھ نے ان باتوں پر بات چیت کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ سفارت کاری کے بہانے سے کسی ملک میں کچھ اور کام کرنا مناسب نہیں۔ اس طرح سفارت خانوں کی اہمیت اور حیثیت میں فرق آ جائے گا۔
پاکستان میں مختلف جگہوں پر دہشت گردی ہوتی ہے تو میڈیا بہت واویلا مچاتا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ ہماری انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ مگر اب خود امریکہ میں دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاﺅس کے قریب امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز کے اندر گھس کر فائرنگ کی گئی۔ کیا اس واقعے کو دہشت گردی نہیں کہا جائے گا؟ یہاں امریکہ جیسے باخبر اور جاسوسی میں ماہر ملک کی انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے۔ پاکستان میں کراچی کے نیول بیس پر حملہ ہوا تھا اور بہت نقصان ہوا۔ جس کے بارے میں کئی دنوں تک خبریں چلتی رہیں۔ تفصیلی پروگرام ہوتے رہے۔ وہ آدمی ماہرانہ تبصرے کرتے رہے جو اس فیلڈ کے نہیں ہیں اور زبانی کلامی ہوائی باتیں کرتے ہیں۔ امریکہ میں اس واقعے کے لئے صرف خبر آئی ہے اور اس کے علاوہ کوئی شور نہیں مچا۔ پاکستان میں بھی اس کا تذکرہ نہیں ہوا۔ ہم صرف اپنی کمزوریوں نااہلیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اسے ناکامیوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ حملہ آوروں میں کالے رنگ کے لوگ بھی تھے۔ کیا کسی نے کہا کہ وہ صدر اوبامہ کے قبیلے کا آدمی ہے؟ قوموں کا رویہ ہمیشہ مثبت اور قومی ہوتا ہے۔ اس سے سیاسی یا ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ امریکہ میں تھنک ٹینک اور دوسرے ادارے اس حوالے سے غور کریں گے اور کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ امریکی سکولوں اور دوسری ایسی جگہوں پر اکا دُکا ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ امریکی عوام امریکی حکام سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔ امریکی عوام تنقید بھی کرتے ہیں۔ شام پر حملے کے حوالے سے امریکی عوام میں بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔
امریکہ میں ادارے مضبوط ہیں اور اپنی رائے میں آزاد ہیں۔ سوشل سوسائٹی اپنی جگہ ایک مقام رکھتی ہے۔ امریکی حکومت اب ایک مخمصے میں ہے۔ سی آئی اے پینٹاگان کانگرس سینٹ اور اس کے علاوہ یہودی لابی اور اسرائیل کا بھی اثر و رسوخ ہے۔ امریکی عوام بھی پوری طرح امریکی پالیسیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اب امریکہ کے لئے معاملات سے نبٹنا اتنا آسان نہیں رہا۔ امریکہ اپنے اندرونی حالات میں بھی پھنسا ہوا ہے۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ امریکہ میں اپنے صدر کے حوالے سے ردعمل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ صدر ابراہام لنکن اور پھر صدر کینیڈی کا قتل بھی بہت غور طلب ہے۔ حکومت کے اندر بھی کئی لابیاں ہیں۔ صورتحال سنجیدہ بھی ہے اور پیچیدہ بھی ہے۔ انٹیلی جنس کے حوالے سے یہ واقعہ امریکہ کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے کہ اتنی سکیورٹی اتنی انٹیلی جنس کے باوجود سب سے اہم شہر میں وائٹ ہاﺅس کے قریب امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر میں حملہ آور داخل ہوتے ہیں اور اپنی کارروائی بڑی آسانی سے کر لیتے ہیں۔
شکر ہے کہ حملہ آور سارے کے سارے امریکی تھے۔ اب امریکہ اس دہشت گردی کے لئے الزام کسی اور ملک پر نہیں لگا سکتا۔ بھارت کے سب سے بڑے لیڈر مسٹر گاندھی کو مارنے والا ہندو تھا۔ ورنہ بھارتی مسلمانوں کی شامت آ جاتی اور اُن پر اسی طرح قیامت توڑی جاتی۔ جیسے اندرا گاندھی کے سکھ قاتلوں کے بعد بے گناہ اور بے خبر سکھوں پر توڑی گئی۔ اندرا گاندھی کے قاتل خود اُن کے باڈی گارڈ تھے جنہوں نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر ہندو فوج کے حملے کا بدلہ لیا تھا۔ اس ظلم و زیادتی کے باوجود اندرا نے اعتماد سکھوں پر کیا تھا۔ تب بھارت کا صدر بھی ایک سکھ سردار گیانی ذیل سنگھ تھا۔ اور اب اندرا کی بہو نے ایک سکھ من موہن سنگھ کو دو بار بھارت کا وزیراعظم بنایا ہے۔ یہ صورتحال بڑی گھمبیر ہے۔
امریکہ ایک بڑی طاقت ہے۔ اصل طاقت قانون کی طاقت ہوتی ہے۔ مگر طاقتور لاقانونیت کی طاقت استعمال کرنے میں زیادہ آسانی اور اعزاز سمجھتے ہیں۔ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے جنگ کا راستہ اختیار کرنے سے مایوسی پھیلتی ہے۔ لوگ بیزار ہو جاتے ہیں۔ خوف کی وجہ سے چُپ رہتے ہیں مگر اُن کے دل میں عزت اور مثبت جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ زندگی میں آسودگی پیدا کرنے کے لئے بڑی ایجادات ہوتی ہیں۔ موت پھیلانے کے لئے بھی مہلک اسلحہ بنا لیا گیا ہے۔ جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ پھر وہ لوگ بھی جو امن کے خواہاں ہیں۔ وہ بھی میدان میں نکل آتے ہیں۔ میرے خیال میں انسانی دل بڑے سے بڑے اسلحے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ امن کے لئے جنگ اور سزا کی پالیسی ترک کر کے ہمدردی اور مدد کی کارروائی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ مشرق وسطیٰ اور برصغیر دہشت گردی کا شکار ہیں۔ دہشت گرد بھی یہاں پیدا کئے جا رہے ہیں۔ جنگ جب بھی ہو۔ باہر کی طاقتوں کا ارادہ اور منصوبہ ہے کہ میدان جنگ پاکستان ہو۔ وہ قومیں اور لوگ جو کمزور ہیں وہ بھی سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم جب یونیورسٹی میں تھے تو ایک نعرہ لگتا تھا۔ نعرہ لگانے والے نوجوان طالب علم تھے۔ امن عالم کے لئے اک جنگ ہونی چاہئے۔

Page 1 of 1