Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

شیر اور تیر میں ایک نقطے کا فرق ہے - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

Published: Oct 29, 2013 Filed under: Ajmal Niazi Views: 410 Tags: ajmal niazi, teer aur shair, PPP, PMLN, bilawal, nawaz sharif, zardari, pakistan
[+] [a] [-] Related Beats Comments

پاکستانی عوام کا خون تیروں کی بارش نے نکالا اور شیر پی رہا ہے ۔ ۔ ۔ 




بلاول بھٹو جو کچھ بھی کرے۔وہ آصف زرداری کیلئے ”صدر“ زرداری کی سیاست سے بچ نہیں سکتا۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی امی شہید بے نظیر بھٹو کی سازشی موت کو اپنے سامنے رکھے۔ اس لئے بھارت کا راہول گاندھی بہت آگے ہے مگر اس نے بات وہی کی ہے جو بلاول کے دل میں ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ”بی جے پی نفرت کے بیج بو رہی ہے“ اب تو وہ اپنا بویا ہوا کاٹ رہی ہے۔ راہول نے کہا کہ ”مجھے دادی اندرا گاندھی اور ابو راجیو گاندھی کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔“ یہ دھڑکا بلاول کے دل میں بھی ہے‘ کچھ ڈال دیا گیا ہے‘ کچھ ”صدر“ کی سیاست بھی ہے پہلے اسے الیکشن کمپین چلانے نہیں دی گئی۔ دبئی بھیج دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو بھی دبئی گئی تھیں۔ بلاول اب الیکشن کے بعد آئے اور الیکشن کمپین چلانا شروع کر دی ہے۔

موروثی سیاست اور خاندانی حکومت بھارت کی جمہوریت میں بھی ہے۔ نہرو کی بجائے گاندھی بڑا ہندو لیڈر ہے۔ پاکستان میں بھٹو کے ساتھ زرداری کا نام آیا ہے۔ زرداری کا موازنہ گاندھی سے نہیں ہو سکتا۔ بھارت میں بھی جانشینی بیٹی سے چلی ہے۔ اندرا گاندھی کے بعد راجیو گاندھی‘ دونوں قتل ہوئے۔ پاکستان میں بیٹی تو قتل ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ بلاول کی عمر اتنی نہیں ہے جو راجیو کی تھی۔ اب لگتا ہے کہ راہول اور بلاول کی منزل ایک ہے۔ دونوں کو ابھی تک راستے کا پورا پتہ نہیں چلا۔ راہول ماں کی سیاست اور بلاول باپ کی سیاست کی قید میں ہے۔ سونیا گاندھی اور ”صدر“ زرداری دونوں کامیاب سیاستدان ثابت ہوئے ہیں جبکہ حکمت عملی دونوں کی ایک ہی ہے۔ ”حکومت عملی“ کہا جائے تو زیادہ بامعنی ہو گا۔ سونیا گاندھی عمل اور تدبیر کے ساتھ ساتھ ایثار اور قربانی میں بہت آگے ہیں۔

آصف زرداری نے صدر بننے سے پہلے کہا تھا کہ میں سونیا گاندھی بنوں گا۔ صبر و تحمل اور برداشت کے حوالے سے وہ بھی کامیاب ہوئے۔ اب بلاول بھٹو زرداری یہ نہ کہہ دے کہ میں راہول گاندھی بنوں گا۔ اس کا مقابلہ حمزہ شہباز سے ہو گا۔ مونس الٰہی بھی سیاست میں کامیاب ہو کے آیا ہے۔ وہ معمولی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ حمزہ اپنے خاندان میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ مریم نواز کی سیاست میں آمد سے کچھ شور ہوا تھا مگر زور شور نہ ہو سکا۔ کیپٹن صفدر سے تو مریم نواز نوجوانوں کی سیاست کے حوالے سے بہت بہتر ہےں۔ عمران کی پارٹی میں نوجوان تو ہیں نوجوان لیڈر کوئی نہیں۔ ”صدر“ زرداری نے ”دامادی“ سیاست کی دھاک بٹھا دی تھی۔ نواز شریف کے دور میں ”سمدھی“ سیاست رنگ لا رہی ہے۔ نجانے کس نے سلمان شہباز کو سامنے لانے کی سیاست شروع کی ہے۔ نواز شریف چین اور اب امریکہ میں اس کو ساتھ ساتھ لے کر پھرتے ہیں۔ سلمان شہباز سے امید ہے کہ وہ موروثی سیاست کے رازونیاز کو سمجھے گا۔ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی کو باپ کا رتبہ دیا ہے تو آگے چل کے بھی بھائیوں کا رشتہ گھر کے لئے مصیبت نہیں بنے گا۔ بڑے میاں صاحب مرحوم محمد شریف کو سعودی عرب کا نظام پسند تھا۔ وہاں بھائیوں نے ایک روایت کے تحت بڑے بھائی کے حق کو قائم رکھا ہے تو بات بنی ہوئی ہے ورنہ امریکہ وہاں بھی بہت کچھ کر سکتا ہے؟

سیاست میں بھائیوں کے اتفاق کے حوالے سے ایک بڑی مثال چودھری صاحبان کی بھی ہے۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی آپس میں کزن ہیں مگر بھائیوں سے بڑھ کر ہیں۔ شریف برادران اور چودھری برادران سمجھتے ہیں کہ خاندان کی یگانگت اصل طاقت ہے۔ ماضی میں علی برادران کا نام بہت نمایاں تھا مگر وہ حکومت میں نہ آئے تھے۔ اندھے اقتدار کے لئے بھائی اور دوست کی حیثیت کچھ مختلف ہوتی ہے۔ اورنگ زیب نے تین بھائیوں کو قتل کیا۔ اورنگ زیب یہ نہ کرتا تو کوئی دوسرا بھائی اسے قتل کر دیتا۔ بیوی کے قتل کا کوئی واقعہ تاریخ میں شاید نہیں ہے؟ بلاول کا اصل مقابلہ آصفہ بھٹو زرداری سے ہو گا۔

فاطمہ بھٹو کا نام اس تذکرے میں دل کے اندر لرزنے لگتا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی، پھوپھی کی وزارت عظمیٰ کے دوران اپنے باپ کو تڑپتے اور مرتے دیکھا ہے میں نے اس کے کالم پڑھے ہیں اور متاثر ہوا ہوں۔ وہ ایک گمشدہ شہزادی ہے۔ اس نے کبھی اپنے آپ کو تلاش کر لیا تو سیاست کی ملکہ بن سکتی ہے۔ ہماری تاریخ اور سیاست بیٹوں کے کردار سے بھری پڑی ہے۔ بیٹی اور بیوی کا معاملہ تو اب شروع ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو‘ اندرا گاندھی‘ خالدہ ضیاءاور حسینہ واجد

اسفند یار ولی باچا خان کا پوتا ہے مولانا فضل الرحمن مفتی محمود کا بیٹا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹے اور بیٹیاں اکثریت میں ہیں۔ جمہوریت زندہ باد؟ سیاسی جانشینی کے علاوہ صوفیانہ سجادہ نشینی صرف بیٹوں میں منتقل ہوتی ہے۔ مجھے جنرل حمید گل کا بیٹا عبداللہ گل اچھا لگتا ہے وہ اقتدار سے دور ہے مگر اس کے دل میں کئی آرزوئیں تڑپتی ہیں۔ ترکی کا عبداللہ گل یاد آتا ہے۔

بلاول نے لوگوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے خون پینے والے شیر کا شکار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خفا ہوا کہ اسے بلاول نے بزدل خان کہا ہے۔ بہادر تو کوئی بھی پاکستانی سیاست میں نہیں آیا۔ عمران نے تو شیر کے تکے کھانے کا اعلان کیا تھا۔ ایم کیو ایم کی پتنگ لوٹنے کی بات بھی اس نے کی مگر یہ پتنگ دبئی میں اس کے والد کے گھر کی چھت پر لہراتی ہوئی دیکھی گئی۔ پیپلز پارٹی کے جیالے سیاستدانوں نے بلاول کا دفاع جس خوشامدانہ طریقے سے کیا ہے۔ اس کا نوٹس بلاول کو خود لینا چاہئے۔ بلاول سے پہلے رضا ربانی کی تقریر بے بسی کی تصویر تھی۔ رضا ربانی کے لئے میرا خیال اچھا ہے اور اس تقریر کے بعد برا نہیں ہوا۔ یہ سیاست کی مجبوری ہے۔

بلاول نے کہا ہے کہ میں تیر ہوں اور صدر زرداری کمان ہیں۔ پھر تو وہ کسی نشانے سے زیادہ کسی نشانی پر جا لگیں گے۔ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ تیر کدھر جا رہا ہے۔ کئی لوگ پیپلز پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے ہیں۔ جن کو اچانک یہ شعر یاد آیا ہے۔....

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

بے چارے پاکستانی عوام کا خون شیر نے بھی پیا ہے مگر ان کا خون تیروں کی بارش سے بھی نکلا ہے اور خاک میں ملتا رہا ہے۔ تیر تو کمان سے پوچھ بھی

 نہیں سکتا کہ مجھے کس کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔ عوام بے چارے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کے سب کچھ سہتے رہتے ہیں۔ شیر اور تیر میں ایک نقطے کا فرق

 ہے اور ان کی باریاں مقرر ہیں۔ تیر کے لئے کمان جس کے ہاتھ میں ہے۔ اسی کے ہاتھ میں شیر کی رسی ہے۔

Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment