Join Us On Facebook

Please Wait 10 Seconds...!!!Skip

دو سیاسی بہنوں کی ایک کہانی - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

Published: Oct 30, 2013 Filed under: Ajmal Niazi Views: 489 Tags: dr muhammad ajmal niazi, bay niaziyaan, column, sumaira malik, ayla malik, fake degree
[+] [a] [-] Related Beats Comments



سپریم کورٹ نے عائلہ ملک کی بہن فاروق لغاری کی بھانجی اور ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کی پوتی سمیرا ملک کو الیکشن کے لئے تاحیات نااہل کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ کے لئے خود چیف جسٹس افتخار چودھری سربراہ تھے۔ اس سے پہلے عائلہ ملک کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا ہے۔ تحریک انصاف اور ن لیگ میں نااہلوں اور لوٹوں کی کمی نہیں ہے۔ دونوں بہنوں کی ایک ہی کہانی ہے اس کہانی کا عنوان بھی ایک ہے۔ دونوں بہنیں جنرل مشرف کے زمانے میں ایم این اے رہ چکی ہیں۔ فاروق لغاری نے اپنی ملت پارٹی میں انہیں ”ملی سرمائے“ کی طرح رکھا۔ لغاری صاحب ان کے سیاسی ماموں بھی تھے۔ دونوں کو ایک ساتھ ایم این اے بنوایا۔ سمیرا وزیر بن گئی اور عائلہ وزیر کی بیوی بن گئی۔ یار محمد رند نے عائلہ ملک کو برقعہ پہنا کر قید کر لیا۔ جنرل مشرف نے سمیرا ملک کو ”وزیرنی“ کا مرتبہ دے کے ایوان صدر میں قائد بنا لیا۔ رتبے اور رشتے میں ہمارے حکمرانوں کے ہاں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

سمیرا ملک خوشاب سے جنرل الیکشن میں جیت گئیں۔ ان کے خاوند طاہر سرفراز بہت مقبول مقامی سیاستدان ملک نعیم کے بھانجے ہیں۔ وہ وزیراعظم جونیجو کے زمانے میں ایم این اے تھے۔ وہ پچھلے پندرہ سال سے ایک پُراسرار بیماری کا شکار ہیں۔ وہ مسلسل وینٹی لیٹر پر ہیں۔ اور اب بھی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے صرف دس بارہ مریض ہونگے لوگ انہیں یاد کرتے ہیں۔ ہمیشہ انہی کے خاندان کے لوگ الیکشن جیتتے ہیں۔ سمیرا ملک کو بھی یہی رعایت حاصل ہوئی۔ طاہر سرفراز کی نسبت سے وہ سمیرا ملک کے ماموں سسر ہیں۔ اُن کی زندگی میں ماموں کے کردار کی اہمیت بہت ہے۔ طاہر سرفراز فوج میں تھے تو کسی قابل نہ تھے۔ جونیجو صاحب کو مجبور کر کے انہیں سول سروس میں لے آیا گیا اور انہیں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد مقرر کر دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات سفارش اور سیاسی پریشر کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے تو ملٹری بیورو کریسی اور سول بیورو کریسی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیپٹن صفدر کو بھی نوازشریف فوج سے سول سروس میں لائے اب وہ ایم این اے ہیں اور نوازشریف کے داماد ہیں۔ اب جو چیئرمین نیب بنے ہیں۔ وہ بھی ملٹری سے سول سروس میں لائے گئے تھے۔ وہ وفاقی سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے باہمی رضامندی سے انہیں چیئرمین نیب بنا دیا۔ طاہر سرفراز اسلام آباد ہی میں عمر بھر اچھی پوسٹنگ پر فاروق لغاری اور سمیرا ملک کی وجہ سے فائز رہے۔

طاہر سرفراز سول افسر ہوتے ہوئے اپنی بیوی کی الیکشن کمپین چلاتا رہا۔ اس کی گاڑی پر ڈی سی گروپ لکھا ہوتا تھا۔ سمیرا ملک اپنی گاڑی پر بحالی گروپ لکھواتی تھی۔ وہ اپنے آپ کو مسلم لیگ کی ”بی بی“ سمجھتی ہے۔ ملک عمر اسلم جیت گیا تھا مگر جنرل مشرف نے سمیرا ملک کو جتوا دیا۔ اب وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر تھی۔ یقیناً اُس کی کامیابی نوازشریف کی نظر کرم کا نتیجہ ہو گی۔ عمر اسلم ہی کی درخواست پر سمیرا ملک نااہل ہوئی ہے۔ اب وہاں وہ اپنے بیٹے ملک عزیر کو لانا چاہتی ہے۔ عائلہ ملک کو عمران کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے عمران کے کزن انعام اللہ خان کی درخواست پر نااہل کیا گیا ہے۔ وہاں وہ اپنے کزن اور سمدھی وحید ملک کو لائی اور وہ بھی ہار گیا۔

اپنے حلقہ انتخاب داﺅد خیل میں فخر میانوالی شہید جنرل ثناءاللہ خان نیازی کے جنازے میں عمران شریک نہ ہوئے۔ مگر عائلہ ملک کے سابق خاوند یار محمد رند بلوچستان سے آ گئے شاید عائلہ ملک کی ملاقات بھی رند صاحب سے ہو گئی ہو؟

خوشاب کے جلسے میں اور کئی میٹنگز میں سمیرا ملک دیر سے آئیں۔ مگر اُسے ٹکٹ بھی مل گیا اور وہ جیت بھی گئیں۔ البتہ چودھری نثار نے سمیرا کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نہیں بننے دیا۔ ماروی میمن اور سمیرا ملک کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف اور نوازشریف کو نہ صرف گھائل کر لیا اور پھر ہر بات کے لئے مائل بھی کر لیا۔ اس حوالے سے امیر مقام ان دونوں سیاسی شہزادیوں پر بازی لے گئے ہیں۔ وہ پشاور سے ہار کر بھی نوازشریف کا مشیر بن گیا ہے۔ جنرل مشرف انہی کے مشوروں کے بعد اپنے گھر میں قید ہے۔ اللہ رحم کرے۔

عائلہ ملک نے عمران خان کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں اقتدار میں ہیں۔ لہٰذا ملک سسٹرز کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عائلہ ملک تو دوبارہ اینکر پرسن بن سکتی ہے۔ اسے عامر محمود نے اینکر پرسن بنانے کی بہت کوشش کی اور پھر عمران خان کی سیاست کے سپرد کر دیا۔ اسلم اقبال کو بھی عمران نے عامر محمود کے کہنے پر ٹکٹ دیا۔ وہ جیت گیا۔ عائلہ نااہل ہو گئی ہے۔ اسلم اقبال کو جنرل مشرف نے وزیر بھی عامر محمود کی سفارش پر بنوایا تھا۔ عائلہ ملک کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ دونوں بہنیں ”کامیاب“ ہونے کا ہُنر جانتی ہیں۔ بہرحال دونوں بہنوں سے میری پھر گزارش ہے کہ وہ سیاست میں فاروق لغاری کی مہربانی سے آئی ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ سمیرا ملک اور عائلہ ملک لکھنا چھوڑ دیں۔ سمیرا لغاری اور عائلہ لغاری لکھا کریں۔ ملک امیر محمد خان نواب کالاباغ سے ابھی تک اس کی اولاد کوئی انتقام لے رہی ہے۔

12 مئی 2007ءکو چیف جسٹس افتخار چودھری کو کراچی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ شہر میں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ اُسی دن جنرل مشرف اسلام آباد میں ایک جلسے میں مکہ دکھا کے اپنی طاقت کا اعلان کر رہا تھا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے سمیرا ملک کا ہاتھ دائیں ہاتھ سے شوکت عزیز کا ہاتھ پکڑا۔ اور کہا کہ ایک طاقت وہ ہے۔ ایک طاقت یہ ہے۔ ایک فاتحانہ مسکراہٹ سمیرا ملک کے چہرے پر جشن منا رہی تھی۔ کیا اب کسی جلسے میں نوازشریف اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔


Post your comment

Your name:


Your comment:


Confirm:



* Please keep your comments clean. Max 400 chars.

Comments

Be the first to comment